جمعہ کی دوسری اذان مسجد کے اندر ہونی چاہئے یا باہر اور اس سے متعلق تنازع
اذان ثانی مسجد کے اندر ہونی چاہیئے یا باہر؟ جو یہ کہے کہ لوگ اپنے گھروں سے نیا نیا مسئلہ گڑھ کر نکال لیتے ہیں، اس کا حکم ! کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ: (1) اذان ثانی جمعہ کی مسجد کے اندر ہونی چاہئے یا باہر؟ یہاں پہلے اندر ہوتی تھی۔ اب ہم نے باہر کر دیا ہے چونکہ شرعی کوئی عذر موجود نہیں۔ اور سب لوگ ایک ملک کے ہیں اسلئے ہم نے ایسا کیا۔ لیکن ایک شخص نے ہنگامہ مچارکھا ہے۔ لہذا از روئے شریعت مفصل جواب عنایت فرمائیں۔ (۲) کچھ لوگوں نے یہ کہا لوگ اپنے گھر سے نیا نیا مسئلہ گڑھ کر نکال لیتے ہیں۔ المستفتی محمد مجیب الرحمن
الجواب: (1) مسجد میں اذان دینا مکروہ ہے علماء بالا تفاق فرماتے ہیں: لا يؤذن في المسجد (۳) مسجد کے اندر اذان دینا منع ہے خود حضور اکرم ملا لیا پی ایم کے زمانہ اقدس میں اور اسی طرح شیخین کریمین ابوبکر وعمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے زمانے میں اذان جمعہ منبر کے سامنے دروازہ مسجد پر ہوتی تھی اور کہیں منقول نہیں کہ اندر اذان دی گئی ہو۔ ابو داؤد شریف کی حدیث ہے: عن السائب بن یزید رضی الله تعالى عنه قال كان يؤذن بین یدی رسول الله ﷺ اذا جلس على المنبر يوم الجمعة على باب المسجد و ابی بکر و عمر) یعنی حضرت سائب بن یزید روایت کرتے ہیں کہ حضور صلای ایام کے رو برو جب حضور منبر پر رونق افروز ہوتے دروازہ مسجد پر اذان ہوتی اور اسی طرح ابو بکر و عمر کے زمانے میں یہ مسئلہ خود حدیث سے ثابت ہے ضد اور نفسانیت کا علاج نہیں ہے مزید تفصیل کیلئے احکام شریعت و فتاوی رضویہ وغیرہ دیکھیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) عالم کو گالی دینا اور اہانت کرنا بہت سخت ہے علماء نے اس پر حکم کفر فرمایا ہے۔ الاشباہ والنظائر میں ہے: الاستهزاء بالعلم والعلماء كفر (۲) اس پر تو بہ وتجدید ایمان و تجدید نکاح اگر بیوی والا ہولا زم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۰ ذیقعد ۱۳۹۶۰ھ (۱) سنن ابی داؤد ج ۱، ص ۱۵۵ کتاب الصلوۃ باب وقت صلوة الجمعة ، اصح المطابع (۲) الاشباه والنظائر مع الحموی، باب الردة، كتاب السير، ج ۲، ص ۸۷، مكتبة زكريا