تکبیر بیٹھ کر سنیں یا کھڑے ہو کر اور جمعہ کے دن خطبہ کے بعد کھڑے رہنے کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسائل ذیل میں کہ: تکبیر کو کھڑے ہو کر سنیں یا بیٹھ کر ؟ عمرو کہتا ہے کہ تکبیر کو بیٹھ کرسنیں ، کھڑے ہو کر سنا مکروہ ہے احکام شریعت میں ہے۔ زید کہتا ہے علاوہ جمعہ کے ہر وقت میں تکبیر بیٹھ کرسنیں جمعہ کے دن جب خطبہ کی اذان ہو جائے تو امام خطبہ پڑھے اور دونوں خطبوں کے درمیان بیٹھے یہ بیٹھنا مسنون ہے لیکن جب ختم ہو جائے خطبہ تو امام اور مقتدی سب کو کھڑے رہنا چاہئے ۔ جس کو کھڑے ہوکر سنیں جمعہ کی تکبیر بیٹھ کر سنا منع ہے کھڑے ہونے کا حکم ہے حدیث میں آیا ہے کہ اگر جمعہ کی تکبیر میں امام یا مقتدی بیٹھ کر سنے تو حکم یہ ہے کہ اس کو دونوں بازو پکڑ کر کھڑا کر دو۔ جمعہ کی تکبیر میں بیٹھنا نا جائز ہے۔عمروکہتا ہے کہ اگر جمعہ کی تکبیر میں بیٹھنا منع ہوتا ہے تو احکام شریعت میں جمعہ کے دن کی قید لگی ہوتی کیا وہ عالم نہیں ہیں جو انہوں نے وہ حدیث نہ لکھی لہذا گزارش ہے کہ صحیح مسئلہ سے مطلع کریں ۔ بینوا توجروا المستفتی: افتخار حسین رضوی موضع تخت پور پوسٹ دیگر پور ضلع مراد آباد
الجواب: امام جبکہ مقتدیوں کے ساتھ مسجد میں ہو تو پہلے سے کھڑا رہنا نہ چاہئے بلکہ حی علی الفلاح پر کھڑے ہوں۔ درمختار میں ہے: والقيام لامام ومؤتم حين قيل حي على الفلاح )) عمر و کا قول صحیح ہے زید کا قول غلط ہے جمعہ میں مقتدیوں کو پہلے سے کھڑا رہنا مکروہ ہے وہ اسی وقت کھڑے ہوں جبکہ مکبر حی علی الفلاح کہے۔ ہاں امام کو اختیار ہے کہ کھڑا ر ہے یا بیٹھ جائے زید پر غلط مسئلہ بتانے سے تو بہ لازم اور حدیث جو ذکر کی اس کا ثبوت دے ورنہ ڈرے کہ حضور علیہ السلام ایسے کو مژدہ نارسناتے ہیں۔ من كذب على متعمدا فلیتبوامقعدہ من النار () واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۰ رشوال المکرم ۱۳۹۵ھ