مسجد میں اذان، سجدہ میں پیروں کی انگلیاں زمین پر رکھنے اور نماز کے بعد دعا کی شرعی حیثیت
غافل ہیں۔ (۳) نماز ختم ہوتے ہی جو دعامانگی جاتی ہے کیا وہ سنت موکدہ ہے؟ تو صرف فرض جماعت کے بعد یا تنہا بھی منفرد خواہ کتنے ہی رکعت کا کوئی نماز فرض و واجب سنت نفل بعد ختم رکعت سلام کے دعا مانگنا ضروری ہے؟ فقہائے کرام کے ارشادات عالیہ نقل کر دیں مسائل کا جواب بہت جلد دیں۔ المستفتی: محمد ابراہیم محله قاضی پور کلاں گورکھپور
الجوار (1) سنن ابوداؤد شریف کی حدیث: عن السائب بن يزيدانه كان يؤذن بين يدى رسول صلى الله عليه وسلم اذا جلس على المنبريوم الجمعة على باب المسجد و ابی بکر و عمر(۱) یعنی حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور اور شیخین کے عہد میں اذان منبر کے سامنے جمعہ کے دن دروازہ مسجد پر ہوتی تھی۔ اسی لئے جملہ فقہائے مذہب فرماتے ہیں: لا يؤذن في المسجد ويكره الاذان في المسجد(۲) تفصیل احکام شریعت میں ہے۔ وھو تعالی اعلم (۲) ایک انگلی کا لگنا فرض اور اکثر کا واجب اور کل کا سنت ہے درمختار میں ہے: ومنها السجود بجبهته و قدمیه و وضع اصبع واحدة منها شرط - الخ(۳) (۳) فرضوں کے بعد دعامانگنے کی تاکید ہے اور یہ دعا ہمیشہ خصوصاًبعدنماز مستحب ہے۔ وھو تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں قادری از هری غفرله الجواب صحیح ۔ واللہ تعالیٰ اعلم تحسین رضا غفرلہ (1) سنن ابی داؤد، ج ۱، ص ۱۵۵ ، كتاب الصلوة ، باب وقت صلوة الجمعة، اصح المطابع (۲) جامع الرموز كتاب الصلاة فصل الاذان ، ج ۱، ص ۱۲۳ خلاصة الفتاوى - الفصل الاول في الاذان ، ج ۱، ص ۴ (۳) الدر المختار، ج ۲، ص ۱۳۵ ، کتاب الصلوة، صفة الصلوة، دار الكتب العلمية بيروت