کیا مسجد کے اندر اذان دینا مکروہ ہے؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ: ہماری مسجد میں خطبے کی اذان مسجد کے اندر ممبر کے سامنے ایک دو ہاتھ کے فاصلہ پر ہوتی ہے۔ زید کا کہنا ہے کہ مسجد کے اندر اذان دینا مکروہ ہے خطبے کی اذان مسجد کے باہر خطیب کے سامنے ہونی چاہئے ۔ یہی سنت ہے اور ملبے کی اذان مسجد کے اندر دینا سنت کے خلاف ہے اب سوال یہ ہے کہ زید کا کہنا صحیح ہے یا غلط؟ اور ہماری مسجد میں منبر کے سامنے دیوار ہے تو اسکی کیا صورت ہوگی ؟ کہ خطبے کی اذان مسجد سے باہر خطیب کے سامنے ہو اور سامنے دیوار نہ ہو۔ مذکورہ سوالات کے جواب قرآن وحدیث کی روشنی میں مع حوالوں کے عنایت فرمائیں۔ المستفتی محمد عبد الرحمن رضوی معلم جامعہ نعیمیہ مراد آباد
الجواب: ہے۔ زید صحیح کہتا ہے مسجد کے اندر کوئی اذان جائز نہیں۔ عالمگیری میں ہے: يينبغي ان يؤذن على المئذنة او خارج المسجد ولا يؤذن في المسجد (1) اور اسی طرح جملہ کتب میں ہے۔ اور ابو داؤد شریف میں سید نا سائب بن یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث مروی ہے کہ حضور سرور عالم مالی سی پی یم اور شیخین صدیق و فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے عہد میں جمعہ کے دن اذان دروازہ مسجد پر منبر کے سامنے ہوتی تھی تو یہی سنت ہے اور اندرون مسجد اذان دینا خلاف سنت ہے۔ دیوار میں جالی لگائیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں قادری از هری غفرله ۵ رصفر المظفر ۱۳۹۸ھ (1) الفتاوى الهندية، ج ۱، ص ۱۱۲ كتاب الصلوة الفصل الثانى فى كلمات الاذان والاقامة دار الفکر بيروت