اذان کے وقت سائرن بجانے کی ممانعت اور شعائر اسلام کی تعظیم و تکریم
(1) اس درمیان سائرن بجانے کی ممانعت ایک عالم دین نے بھی کی ہے پھر بھی نہ ماننے والوں کیلئے شرعی حکم کیا ہے؟
الجواب: محمد یار خاں عرف بھورے خاں رائے پور (۳۲۰) اذان کہ اس سے مقصور دخول وقت صلوٰۃ کی خبر دینا ہے شعائر دین سے ایک عظیم وجلیل شعار ہے یہاں تک کہ ہمارے امام اجل امام محمدمحمد المذهب الحنفی سے مروی ہے کہ اگر کسی بستی کے لوگ مل کر اسے چھوڑ دیں تو سلطان اسلام ان سے قتال کرے اور شعار مذہب کی تعظیم دلیل تقویٰ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَمَنْ يُعَظِمْ شَعَابِرَ اللهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوبِ ) لا جرم اسی لئے ہمارے علما نے فرمایا کہ تلاوت کرنے والا اذان کی آواز سنے تو چاہئے کہ اس وقت تک تلاوت موقوف رکھے جب تک اذان ہو۔ کمافی الغنیہ جب اذان کی یہ تعظیم ہے تو وہ بے معنی سائرن اذان کے ساتھ کیونکر جائز ہو سکتی ہے۔ ہمارے اس جزئیہ سے معلوم ہوا کہ اذان کا سننا بے شک ضروری ہے اسی لئے علما فرماتے ہیں کہ اذان کے وقت سلام و کلام حتی کہ جواب سلام (حالانکہ وہ واجب ہے) موقوف رکھے بلکہ بہار شریعت میں صدر الشریعہ مولانا امجد علی صاحب نے حضور اعلیحضرت علیہ الرحمۃ کے فتاویٰ سے لکھا اور فقیر نے اپنے جد محترم مفتی اعظم ہند ( جنکی نظیر فقہائے معاصرین میں نہیں بلکہ اکثر فقہائے زمانہ انہیں سے مستفیض ہیں اور معاصرین میں محدث اعظم علیہ الرحمہ نے ان کے حکم کو حکم العالم المطاع کہا اور جنکی جلالت علم مخالف کو مسلم ہے ) سے سنا کہ اذان کے وقت بات کرنے والے کیلئے سوء خاتمہ کا اندیشہ ہے۔ سائرن سے اگر دور والوں کو خبر افطار کرنا ہوتو وہ پہلے بجا ئیں کچھ بعد میں اذان کہیں یہ تینوں کا جواب ہو گیا۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) سائرن پر مسجد کا پیسہ خرچ کرنا جائز نہیں۔ اہل محلہ اپنی جانب سے سائرن پر خرچ کریں۔ رد المحتار میں ہے: و اما اهلها فلهم ان يهدموه ويجددوا بناءه ويفرشو الحصير ويعلقوا القناديل لكن من مالهم لا من مال المسجد () سائرن پر مسجد کا پیسہ لگانے والا ضامن ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) اس وقت نا جائز ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (1) گنہ گار ہیں تو بہ لازم ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں قادری از هری غفرلہ