اذان ثانی کا مقام اور تکبیر کے وقت بیٹھنے یا کھڑے ہونے کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ: (1) اذان ثانی خارج مسجد ہو یا امام کے سامنے سنت کیا ہے؟ خارج مسجد یا اندر یا امام کے سامنے جو سنت ہو وہی مختصر سمجھا ئیں اور قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب مدلل و مفصل دیجئے۔ (۲) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مندرجہ ذیل کے بارے میں کہ تکبیر بیٹھ کے سنیں یا کھڑے ہو کر ؟ لوگ کہتے ہیں تکبیر کھڑے ہو کر سننا سنت ہے اور یہی ہونا چاہئے ۔ عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے دور خلافت کے وقت کھڑے ہو کر تکبیر سنا کرتے تھے اور جماعت سیدھی کرتے تھے یہی سنت ہے۔ لہذا اسکا بھی جواب قرآن وحدیث کی روشنی میں عنایت فرما ہیں۔
الجواب: (۱) مسجد میں کوئی اذان جائز نہیں بلکہ خارج مسجد حدود مسجد میں مسنون ہے۔ ہند یہ وقاضی خان میں ہے: ھدایہ وعامہ کتب میں ہے: لا يؤذن في المسجد (1) المكان في مسألتنا مختلف (۲) اس پر فتح القدیر شرح ہدایہ میں ہے: المعهود اختلاف مكانهما وهو كذالك شرعاً والاقامة في المسجد ولا بدواما الاذان فعلى المئذنة فان لم يكن ففى فناء المسجد وقالو الايؤذن فى المسجلوس) اسی کے باب الجمعہ میں ہے: هو ذكر الله في المسجداى في حدوده لكراهة الاذان في داخله(۴) حدیث شریف میں ہے۔ جو حضرت سائب بن یزید رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے: عن السائب ابن يزيد انه كان يؤذن بین یدی رسول الله صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اذا جلس على المنبريوم الجمعة على باب المسجد وابی بکر وعمر(ه) رسول کریم سی اسلام اور ابوبکر وعمر رضی اللہ تعالی عنہما کے زمانے میں اذان دروازہ مسجد پر منبر کے سامنے ہوتی تھی ۔ واللہ تعالیٰ اعلم تفصیل کے لئے فتاوی رضویہ، احکام شریعت وغیرہ دیکھئے۔ وھو تعالی اعلم (۲) تکبیر کھڑے ہو کر سننا مکروہ ہے ۔ علما فرماتے ہیں کہ تکبیر ہو رہی ہے اور اس دوران کوئی آیا تو اسے کھڑے ہوئے سنا مکروہ ہے بلکہ بیٹھ جائے اور موذن جب حی علی الفلاح پر پہنچے اس وقت کھڑا ہو۔ ہندیہ میں ہے: يقوم الامام والقوم اذا بلغ المؤذن حى على الفلاح عند علمائنا الثلثة هو الصحيح کذافی المضرات (1) در مختار وردالمحتار میں ہے: دخل المسجد والمؤذن يقيم قعد الى قيام الامام في مصلاه ويكره له الانتظار قائما ولكن يقعد ثم يقوم اذا بلغ المؤذن حى على الفلاح (۲) اس مسئلہ میں تفصیل کے لئے فتاوی رضویہ دوم دیکھئے۔ واللہ تعالی علم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله شب ۲۲ رمضان المبارک ۱۴۰۴ھ صح الجواب ۔ والمولیٰ تعالیٰ اعلم