مسجد کے اندر اذان دینے کی شرعی حیثیت اور ممانعت
۲۱ ربیع الاول ۱۴۰۷ھ کیا مسجد کے اندر اذان دینا حدیث وفقہ سے ثابت ہے؟ محترمی و مکرمی جناب مفتی صاحب قبلہ و کعبہ مدظلہ العالی ! سلام ورحمت بیکراں خیریت طرفین نیک مطلوب ! علمائے کرام و مفتیان شرع متین اس مسئلے میں کیا فرماتے ہیں کہ : ہمارے یہاں جمعہ کی ثانی اذان ممبر کے سامنے یعنی کہ مسجد کے اندر دی جاتی ہے۔ تو ہمارے پیش امام صاحب کہتے ہیں کہ مسجد کے اندر اذان دینا حدیث وفقہ کی کسی کتاب سے اسکا ثبوت نہیں ہے اور مسجد میں اذان دینا مکروہ ہے لہذا اذان مسجد کے باہر منبر کے سامنے دی جائے تو برائے کرم صحیح مسئلہ کیا ہے؟ حدیث کی روشنی میں اس کا جواب عنایت فرمائیں عین کرم ہوگا۔ اس کا جواب جلد از جلد عنایت فرمائیں۔ فقط لمستفتی : ابراہیم بن محمد بھائی گجرات
الجواب: صحیح وہی ہے جو امام صاحب نے کہا حدیث میں ہے: كان يؤذن بين يدى رسول الله الله اذا جلس على المنبر يوم الجمعة على باب المسجد وابی بکر وعمر(۲) یعنی حضور سرور عالم صلی ا تم ابوبکر و عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے زمانے میں اذان دروازہ مسجد پر جمعہ کے دن منبر کے سامنے ہوتی تھی۔ یہ حدیث حضرت سائب بن یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے امام ابو داؤ درضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی سنن میں روایت فرمائی۔ عالمگیری میں ہے: ينبغي أن يؤذن على المئذنة او خارج المسجد ولا يؤذن في المسجد () ایسا ہی فتاویٰ قاضی خاں اور دوسری بہت سی کتابوں میں ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں قادری از هری غفرلہ