داڑھی منڈے کو فاسق کہنا، داڑھی کی شرعی مقدار اور داڑھی منڈے سے اذان کہلوانے کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مندرجہ ذیل مسائل میں کہ: (1) جو شخص داڑھی منڈائے اسے لغوی اور شرعی اعتبار سے کس نام سے موسوم کریں گے ۔ کیا اسے فاسق کہنا غلط ہے؟ (۲) دو ایسے اشخاص جن میں ایک کی داڑھی ہو اور دوسرا داڑھی منڈا تا ہو، ان میں اذان کہنے کا زیادہ مستحق کون ہے؟ (۳) داڑھی شرعی اعتبار سے کتنی ہونی چاہئے؟ المستفتی : افتخار علی خاں، پنت نگر نینی تال
(۳،۲،۱) داڑھی منڈانا یا حد شرع سے کم کرانا اور انکی عادت ، گناہ کبیرہ ہے: در مختار میں ہے: یحرم على الرجل قطع لحيته (۱) اور داڑھی کی حد شرع یکمشت ہونا ہے۔ اسی میں ہے: والسنة فيها القبضة (۲) اور اعلانیہ گناہ کا مرتکب فاسق معلن ہے داڑھی منڈا ہو یا کوئی اور پھر داڑھی منڈے سے اذان کہلا نا نا جائز وگناہ ہے۔ حدیث میں ہے : من استعمل رجلا من عصابة و في تلك العصابة من هو ارضى لله منه فقد خان الله و خان رسوله و خان المؤمنين (۳) جو کسی جماعت سے ایسے کو کام پر مقرر کرے کہ دوسرا اس جماعت میں اللہ و رسول کو اس سے زیادہ پسندیدہ ہو تو اس نے اللہ و رسول اور عام مسلمانوں سے خیانت کی ۔ واللہ تعالیٰ اعلم ا مزید تفصیل کے لئے اعلیٰ حضرت قدس سرہ العزیز کے مبارک رسالہ لمعة الضعلی فی اعضاء الحی کا مطالعہ کریں ]