تبلیغی نصاب، بسم اللہ، زکوۃ و فطرہ، اور دیوبندی امام سے متعلق سوالات
تبلیغی نصاب کا پڑھنا سننا کیسا؟ نماز میں سورہ فاتحہ کے بعد بسم اللہ شریف پڑھنا کیسا؟ کیا قربانی کی کھال یا فطرے کا روپیہ مسجد یا مدرسے میں لگا سکتے ہیں؟ تکبیر بیٹھ کر سنتا چاہئے یا کھڑے ہو کر؟ دیوبندی امام کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں : سوال نمبر (۱) نماز کے بعد تبلیغی نصاب کا پڑھنا یا سننا کیسا ہے؟ سوال نمبر (۲) نماز میں سورۂ فاتحہ کے بعد بسم اللہ شریف پڑھنا چاہئے یا نہیں؟ سوال نمبر (۳) فطرہ یا قربانی کی کھال کے روپیہ کو مدرسہ کی عمارت میں لگا سکتے ہیں یا مدرسہ کے معلم کو تنخواہ دے سکتے ہیں؟ سوال نمبر (۴) تکبیر بیٹھ کر سنتا چاہئے یا کھڑے ہوکر کون سا طریقہ افضل ہے؟ سوال نمبر (۵) دیو بندی امام کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟ المستفتی جمیل احمد موضع مڈیائے شادی ضلع را مپور
الجواب: (1) تبلیغی نصاب تبلیغی جماعت کی کتاب ہے اور تبلیغی جماعت دیوبندی عقائد کفریہ کی مبلغ ہے لہذا تبلیغی نصاب پڑھنا جائز نہیں کہ اس میں بدمذہبی کی باتیں ہونا کوئی بعید نہیں اور بادی النظر میں ان بددینوں (1) الطحطاوي على مراقی الفلاح، كتاب الصلوۃ، باب الاذان، ص ۱۹۷ ، دار الكتب العلمية بيروت کی عظمت دل میں آنا تو ضرور ہوگا اور یہ مسلمان کے ایمان کو غارت کرنے کیلئے کافی ہے۔ لہذا تبلیغی جماعت کے دیکھنے سننے سے سخت احتر از فرض ہے اور دیو بندی تبلیغی ، وہابی یا کسی بھی بد مذہب کی اقتدا جائز نہیں اور ان لوگوں کے پیچھے نماز باطل محض ہے۔ واللہ تعالی اعلم (۲) پڑھ سکتے ہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) زکوة وفطرہ وعشر صدقات واجبہ کی رقوم کا ستحق فقیر مسلم ہے اسے دیکر مالک بنادیں پھر اس کی خوشی سے مدرسہ یا مسجد کیلئے لے لیں یوں جائز ہے اور ابتداء فقیر کو بے دیے یہ رقوم مدرسہ وغیرہ پر صرف کرنا جائز نہیں اور اس صورت میں زکوۃ فطرہ ادا نہ ہوں گے چرم قربانی کی رقم مدرسہ وغیرہ کو دے سکتے ہیں کہ اسے فقیر پر صدقہ کرنا واجب نہیں بلکہ اختیار ہے کہ اسکے مین کو باقی رکھتے ہوئے اس سے فائدہ اٹھائے یا چرم کوکسی باقی رہنے والی چیز سے بدل لے یا چرم کوخواہ اسکی قیمت کو صدقہ کر دے البتہ اگر چرم کو اسلئے بیچا تھا کہ اس کے دام خود پر اٹھائے گا تو اب اسے فقیر مسلم پر صدقہ کرنا واجب ہے اور بغیر حیلہ مذکورہ مدرسہ کو دینا جائز نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) کھڑے ہو کر تکبیر سننا مکروہ ہے اور حی علی الفلاح پر کھڑا ہونا مستحب ہے۔ درمختار میں ہے: دخل المسجد و المؤذن يقيم قعد الی قیام الامام في مصلاه (۱) رد المحتار میں اس کے تحت ہے: ويکره له الانتظار قائما ولكن يقعد ثم يقوم اذا بلغ المؤذن حى على الفلاح (۲) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم شب یکم ربیع الاول ۱۴۰۴ھ قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی