مسجد کے اندر اذان ثانی دینے کا شرعی حکم
اذان ثانی کہاں دینا چاہیئے ؟ مسجد کے اندر یا باہر؟ اذان ثانی کا رواج اندرون کہاں سے چلا ؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ : اذان ثانی مسجد کے اندر دینا جائز ہے یا نہیں نیز اذان ثانی کا رواج کہاں سے چلا کس نے ایجاد کیا دلائل و براہین سے مع عبارت وکتب صحیحہ سے واضح مفصل طور پر بیان فرماکر عنداللہ ماجور ہوں۔ بینوا توجروا المستفتی: محمد کمال احمد قادری گونڈوی، امام وخطیب مسجد .W.C.L کوربا، بلاسپور
الجواب: خاص موضع صلاۃ میں ( کہ فی الحقیقہ مسجد وہی ہے ) کوئی اذان دینا جائز نہیں بلکہ مکروہ تحریمی ہے۔ فقہا یک زبان ہیں : یکره ان يؤذن في المسجد () لہذا اذ ان خطبه خارج مسجد حدود مسجد خطیب کے سامنے دی جائے کہ یہی مسنون ہے اور اندرون مسجد اذ ان خطبہ غالباً ہشام بن عبد الملک نے دلوائی تھی تفصیل کیلئے فتاوی رضویہ دیکھئے۔ فقیر محمد اختر رضا خاں قادری از هری غفرله