تکبیر کہتے وقت مؤذن کے ساتھ کھڑا ہونا چاہئے یا حی علی الفلاح پر ؟ داڑھی منڈے کی اذان کا حکم !
مہربان نسبت کے رہبر اعلحضرت کے جانشین ہم سنیوں کے پیشواور ہنما مفتی اعظم ( فاضل بریلوی)! السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ دیگر ہم سنی مسلمانوں کی آپ سے گذارش ہے ہمیں کچھ فتووں کی ضرورت ہے برائے مہربانی ہمیں فتویٰ بھیجنے کی تکلیف گوارہ کریں آپ سے گذارش یہ ہے کہ بمبئی علاقے میں دوسئی نالوقہ کے ماتحت ایک قصبہ ہے جس کا نام آگاشی ہے یہاں شریعت کے خلاف کچھ لوگ شر پھیلا رہے ہیں جس کی تحریر ہم نیچے پیش کر رہے ہیں اس کا جواب برائے مہربانی جلد از جلد دینے کی تکلیف گوارا کریں یہ آپ سے ہم سنیوں کی التجا ہے اس قصبہ میں ۴۵ سے ۵۰ گھر کے مسلمانوں کی آبادی ہے یہاں ایک مسجد ہے جس میں پانچوں وقت نماز بہ اذان ہوتی ہے اس وجہ سے اس مسجد میں ایک پیش امام ( جو سنی حنفی ہے ) اور ایک موذن رکھا گیا ہے نماز میں پنج وقتہ ۸-۱۰ ر نمازی ہوتے ہیں اور جمعہ کے روز ۵۰-۷۵ نمازی ہو جاتے ہیں مگر اس میں کچھ شریعت کے خلاف اختلافات پیدا ہو گئے ہیں اسلئے ہم آپ سے گزارش کرتے ہیں نیچے کی تحریر کے مطابق کچھ فتویٰ بھیجنے کی زحمت گوارہ کریں یہی ہم غریب سنیوں کی آپ سے التجا ہے۔ سوال نمبر (۱) ہمارے یہاں مسجد میں جماعت کھڑی ہونے کے وقت صلوۃ و تکبیر دینے کیلئے موذن کھڑا ہوتا ہے تب ساتھ میں امام اور کچھ مقتدی کھڑے ہو جاتے ہیں تو کیا مؤذن کے ساتھ جماعت کیلئے کھڑا ہونا چاہئے یا حی علی الصلوۃ حی علی الفلاح پر کھڑے ہونا چاہئے ہمارے علمائے دین کا کیا فیصلہ ہے؟ سوال نمبر (۲) یہاں موذن جو ان لڑکا ہے جس کی عمر کم از کم ۱۸ سے ۲۰ سال کی ہوگی وہ داڑھی صاف کرواتا ہے اور اذان دیتے وقت آگے پیچھے دائیں بائیں دیکھتا ہے اور ہنستا ہے کیا اسکی اذان یا تکبیر ہوسکتی ہے اور تکبیر کہتے وقت ہاتھ بھی باندھ کے رکھتا ہے تو اس کیلئے شریعت کا کیا حکم ہے اور ہمارے علمائے دین اس بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ مہربانی کر کے ان تینوں سوالوں کا جلد جواب دینے کی تکلیف گوارا کریں یہ آپ سے التجا ہے
الجواب:(1) امام و مقتدی کو حی علی الفلاح پر کھڑا ہونا چاہئے اور شروع اقامت سے کھڑا ہونا مکروہ ہے۔عالمگیری میں ہے:يقوم الامام والقوم اذا قال المؤذن حى على الفلاح عند علمائنا الثلثة هو الصحيحکذافی المضمرات ()رد المحتار میں ہے:يكره له الانتظار قائما ولكن يقعد ثم يقوم اذا بلغ المؤذن حى على الفلاح)طحطاوی علی المراقی میں ہے:يفهم منه كراهةالقيام ابتداءالاقامة والناس عنه غافلون(۳) واللہ تعالیٰ اعلم(۲) اس کی اذان مکروہ و خلاف سنت ہے موذن ایسا ہو جو متقی ہو اور وجہ مسنون پر اذان دے۔فقیر محمد اختر رضا خاں قادری از هری غفرلهشب ۲۶ / جمادی الآخره ۱۴۰۲ھواللہ تعالیٰ اعلمصبح الجواب ۔واللہ تعالیٰ اعلمقاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی(1)(۲)الفتاوى الهندية ، ج ۱، ص ۱۱۴ ، كتاب الصلوة الباب الثاني في الاذان، دار الفکر بيروترد المحتار - ج ۲ ص ، كتاب الصلوۃ، باب الاذان، دار الكتب العلمية بيروت(۳) الطحطاوي علی مراقی الفلاح - ص ۲۷۸ ، كتاب الصلوة، فصل من أدابها، دار الكتب العلمية بيروت