جمعہ کی اذانِ ثانی مسجد کے اندر ہونی چاہئے یا باہر
اذان ثانی داخل مسجد ہونا چاہئے یا خارج مسجد؟ بعد اذان صلوۃ پڑھنا شرعاً جائز ہے! کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ: جمعہ کی اذان ثانی مسجد کے اندر ہونی چاہئے یا باہر؟ اور صلوۃ کے پڑھنے کا کیا حکم شریعت ہے؟ بینوا توجروا۔ رئیس احمد بلاس پور ضلع را مپور
الجواب: مسجد میں کوئی اذان جائز نہیں ۔ ہندیہ میں خانیہ سے ہے: ينبغي ان يؤذن على المئذنة او خارج المسجد ولا يؤذن في المسجد (۲) ہدایہ وغیرہ کتب فقہ میں ہے: فتح القدیر میں اس کے تحت ہے: والمكان في مسألتنا مختلف () كتار الصلوة / باب الاذان أى المعهود اختلاف مكانهما وهو كذالك شرعاً والاقامة في المسجد ولا بد واما الاذان فعلى المئذنة فان لم يكن ففى فناء المسجد وقالو الايؤذن في المسجلو) اسی کے باب الجمعہ میں ہے: هو ذكر الله في المسجداى في حدوده لكراهة الاذان في داخله(۳) طحطاوی علی المراقی میں قہستانی سے ہے: یکره ان يؤذن في المسجد (۴) ان عبارتوں سے ظاہر کہ اذان خارج مسجد حدود مسجد میں مسنون ہے اور خاص موضع صلاۃ میں اذان دینا مکروہ و خلاف سنت ہے بلکہ حضرت سائب بن یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنن ابوداؤد میں مروی : انه كان يؤذن بين يدى رسول الله ﷺ اذا جلس على المنبر يوم الجمعة على باب المسجد وابى بكر و عمر (ه) یعنی حضور صلی اسلام اور ابوبکر وعمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے سامنے جب یہ حضرات منبر پر تشریف رکھتے اذان جمعہ دروازہ مسجد پر ہوتی ، اور صلاۃ بعد اذان جائز و مستحسن اور صد ہا برس سے معمول مسلمین جملہ بلا دوا مصار ہے۔ (1) الهداية - ج 1 ، ص ،۸۹ كتاب الصلوۃ، باب الاذان ، مجلس برکات (۲) فتح القدير - ج 1 ، ص ۲۵۰ ، کتاب الصلاة، باب الاذان برکات رضا (۳) فتح القدير - ج ۲، ص ۵۶ ، کتاب الصلاة، باب صلوة الجمعة، بركات رضا (۴) الطحطاوي على مراقی الفلاح، كتاب الصلوۃ، باب الاذان ، ص۱۹۷ ، دار الكتب العلمية بيروت (۵) سنن ابی داؤد - ج ۱، ص ۱۵۵، کتاب الصلوۃ، باب وقت صلوة الجمعة، اصح المطابع در مختار میں ہے: التسليم بعد الاذان حدث في ربيع الآخر سنة احدى وثمانين وسبعمائة في عشاء ليلة الاثنين الى قوله وهو بدعة حسنة (1) والله تعالى اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۸؍ جمادی الاولی ۱۴۰۳ھ (1) الدر المختار مع شامی - ج ۲، ص۵۷، کتاب الصلوۃ، باب الاذان ، دار الكتب العلمية بيروت