ائمہ ثلاثہ کے نزدیک حی علی الفلاح پر کھڑا ہونا مستحب ہے
کیا فرماتے ہیں مفتیان شرع متین مسئلہ مندرجہ ذیل میں کہ: میرے محلہ کی مسجد میں جمعہ کے دن تکبیر کے وقت مقتدی کھڑے رہتے ہیں لیکن کچھ دنوں سے امام صاحب نے کہا کہ تکبیر کے وقت بیٹھے رہیں حی علی الفلاح کے وقت کھڑے ہوں اس پر تمام مقتدی بیٹھے رہے تکبیر کے وقت لیکن چند لوگوں نے امام صاحب سے سوال کیا کہ آپ نے تکبیر کے وقت مقتدیوں کو بیٹھے رہنے کا اعلان کیا ہے یہ کون سی کتاب سے ثابت ہے؟ ہمیں قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں تب ہم مانیں گے اس لئے برائے کرم قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب دیں۔ المستفتی: محمد سیف احمد قادری محلہ حضرت شیورہ پوسٹ حضرت شیور وا یہ بیٹری ضلع سمستی پور
مسئله - ۸۷ ١١٩ كتنا الصلوة / باب الاذان ائمہ ثلاثہ کے نزدیک حی علی الفلاح پر کھڑا ہونا مستحب ہے! کیا فرماتے ہیں مفتیان شرع متین مسئلہ مندرجہ ذیل میں کہ: میرے محلہ کی مسجد میں جمعہ کے دن تکبیر کے وقت مقتدی کھڑے رہتے ہیں لیکن کچھ دنوں سے امام صاحب نے کہا کہ تکبیر کے وقت بیٹھے رہیں حی علی الفلاح کے وقت کھڑے ہوں اس پر تمام مقتدی بیٹھے رہے تکبیر کے وقت لیکن چند لوگوں نے امام صاحب سے سوال کیا کہ آپ نے تکبیر کے وقت مقتدیوں کو بیٹھے رہنے کا اعلان کیا ہے یہ کون سی کتاب سے ثابت ہے؟ ہمیں قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں تب ہم مانیں گے اس لئے برائے کرم قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب دیں۔ المستفتی: محمد سیف احمد قادری محلہ حضرت شیورہ پوسٹ حضرت شیور وا یہ بیٹری ضلع سمستی پور الجواب: امام نے صحیح کہا فی الواقع حکم یہی ہے کہ مقتدی و امام کوحی علی الفلاح پر کھڑا ہونا مستحب ہے اور علما فرماتے ہیں شروع سے کھڑار ہنا مکروہ ہے۔ فتاوی عالمگیری میں ہے: يقوم الامام والقوم اذا قال المؤذن حى على الفلاح عند علمائنا الثلثة هو الصحيح کذافی المضمرات (۱) در مختار میں ہے: دخل المسجد و المؤذن يقيم قعدالی قیام الامام في مصلاه (۲) رد المحتار میں ہے: ويكره له الانتظار قائما ولكن يقعد ثم يقوم الخ (۳) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۲ / رمضان ۱۴۰۶ھ (1) فتاوی عالمگیری ج ۱، ص ۱۱۴ ، الفصل الثاني في كلمات الاذان والاقامة وكيفيتهما، دار الفكر بيروت (۲) الدر المختار ج ۲ ص ، کتاب الصلوۃ، باب الاذان، دار الكتب العلمية بيروت (۳) رد المحتار ج ۲، ص ، کتاب الصلوۃ، باب الاذان، دار الكتب العلمية بيروت