مسجد کے اندر اذان کی ممانعت اور حدود مسجد سے باہر اذان دینے کا بیان
ہو گیا ہے برائے کرم جلد واپسی ڈاک کر کے حکم شرع سے مطلع فرما ئیں تا کہ ہیجان دور ہو۔
الجواب: استلقی : مسعود اختر معرفت عبد الغفور نمبر مرچنٹ متصل ڈاکخانہ سنبھل مراد آباد اذان خارج مسجد حدود مسجد میں مسنون ہے۔ خاص موضع صلاۃ میں کوئی اذان جائز نہیں ہندیہ و قاضی خاں میں ہے: ينبغي أن يؤذن على المئذنة او خارج المسجد ولا يؤذن في المسجد (1) طحطاوی میں قہستانی سے پھر نظم سے ہے: یکره ان يؤذن فی المسجد کما فی القهستاني عن النظم(۲) یعنی نظم پھر قہستانی میں ہے کہ مسجد میں اذان مکروہ ہے۔ فتح القدیر میں ہے: اسی کے باب الجمعۃ میں ہے: قالو الا يؤذن في المسجد (۳) علما نے فرمایا کہ مسجد میں اذان نہ دی جائے۔ لكراهة الاذان في داخله (۴) یعنی جمعہ کا خطبہ مثل اذان ذکر الہی ہے۔ مسجد میں یعنی حدود مسجد میں ، اسلئے کہ اذان مسجد کے اندر مکروہ ہے۔ قاضی خاں میں ہے: لا يؤذن في المسجد (ه) مسجد کے اندر اذان کی ممانعت ہے۔ (1) قاضی خاں ، ج ۱، ص ۵۱ كتاب الصلوۃ، باب الاذان، دار الفکر بيروت (۲) الطحطاوي على مراقی الفلاح كتاب الصلوۃ، باب الاذان ، ص ۱۹۷ ، دار الكتب العلمية بيروت (۳) فتح القدير - ج ۱، ص ۲۵۰، کتاب الصلوة ، باب الاذان بركات رضا (۴) فتح القدير - ج ۲، ص ۵۶ ، کتاب الصلوۃ، باب صلوة الجمعة، بركات رضا (۵) قاضی خان ، ج ۱، ص ۵۱ کتاب الصلوۃ، باب الاذان، دار الفکر بيروت شرح نقایہ علامہ برجندی میں ہے: فيه اشعار بأنه لا يؤذن في المسجد (1) صدر الشریعہ کے کلام میں اس پر تنبیہ ہے کہ اذان مسجد میں نہ ہو۔ غنیہ میں ہے: الاذان انما يكون فى المئذنة او خارج المسجد والاقامة في داخله (۲) اذان نہیں ہوتی مگر منارہ پر یا مسجد کے باہر اور تکبیر مسجد کے اندر یہاں تک کہ اب ماضی قریب کے ایک عالم مولوی عبدالحی صاحب لکھنوی ” عمدة الرعایة حاشیہ شرح وقایہ“ میں تصریح فرماتے ہیں : قوله بين يديه) اى مستقبل الامام في المسجد كان او خارجه والمسنون هوالثانی(۳) یعنی بین یدیہ کے معنی صرف اس قدر ہیں کہ امام کے رو برو ہو مسجد میں یا باہر اور سنت یہی ہے کہ مسجد کے باہر ہو ۔ ان سب سے قطع نظر خود ابو داؤد شریف میں حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے ہے: قال كان يؤذن بين يدى رسول الله صلى الله تعالى وسلم اذا جلس على المنبر يوم الجمعة على باب المسجد و ابی بکر و عمر(۲) یعنی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن منبر پر تشریف رکھتے تو حضور کے سامنے مسجد کے دروازے پر اذان ہوتی تھی۔ اور کبھی منقول نہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم یا خلفائے راشدین نے مسجد کے اندر اذان دلوائی اگر اس کی اجازت ہوتی تو بیان جواز کیلئے کبھی ایسا ضرور فرماتے ۔ مسلمانوں کو حکم شرع ماننالازم ہے اور اسکے خلاف پر اصرار حرام بد کام بدانجام ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۹ رذی الحجہ ۱۳۹۸ھ (1) شرح النقاية للبرجندی، ج ۱، ص ۸۴ ، باب الاذان، نولکشور لکھنؤ (۲) غنية المستملى شرح منية المصلى، کتاب الصلوۃ، باب الاذان، ۳۷۷، سهیل اکیڈمی پاکستان (۳) عمدة الرعايه حاشیه شرح وقایه ، ج ۱، ص ۲۰۲، کتاب الصلوۃ، باب الجمعة، مجلس بركات (۴) سنن ابی داؤد، ج ۱، ص ۱۵۵، کتاب الصلوۃ، باب وقت صلوة الجمعة، اصح المطابع