خطبہ کی اذان مسجد کے اندر کیوں ہوتی ہے؟ باہر کیوں نہیں ہوتی ؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ : الہ آباد میں ایک مسجد کے نمازی یہ معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ خطبہ کی اذان مسجد کے اندر کیوں نہیں ہوتی باہر کیوں ہوتی ہے جواب دلیل کے ساتھ دینے کی تکلیف فرمائیں۔ المستفتی: اجمل حسین نئی بستی بوڑھا تعزیہ نور اللہ روڈ دکان نمبر ۱۷۷ از دل ٹی اسٹال الہ آباد
الجواب: اذان خارج مسجد حدود مسجد میں مسنون ہے اور خاص موضع صلاۃ میں کوئی اذ ان جائز نہیں ہندیہ میں قاضی خاں سے ہے: ينبغي ان يوذن على المئذنة او خارج المسجد ولا يؤذن في المسجد () ہدایہ میں ہے: والمكان في مسألتنا مختلف (۲) اس کے تحت فتح القدیر میں ہے: اى المعهود اختلاف مكانهما والاقامة في المسجد ولا بد واما الاذان فعلى المئذنة فان لم يكن ففي فناء المسجد وقالو الايؤذن فى المسجلوس) فتح القدیر ہی میں باب الجمعۃ میں ہے: هو ذكر الله في المسجداى في حدوده لكراهة الاذان في داخله (۴) (1) قاضی خان ، ج ۱، ص ۵۱ كتاب الصلوۃ، باب الاذان ، دار الفکر بيروت (r) الهداية ، ج 1 ، ص ،۸۹ كتاب الصلوة ، باب الاذان مجلس بركات (۳) فتح القدير ، ج ۱، ص ۲۵۰ ، کتاب الصلوۃ، باب الاذان برکات رضا (۴) فتح القدير، ج ۲، ص ۵۶ ، كتاب الصلوة ، باب صلوة الجمعه ، برکات رضا طحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے: یکره ان يؤذن فی المسجد کما فی القهستاني عن النظم (1) اور اس سے بڑھ کر یہ کہ خود حدیث میں وارد ہوا جو حضرت سائب بن یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے: انه كان يؤذن بين يدى رسول الله ﷺ اذا جلس على المنبريوم الجمعة على باب المسجد وابی بکروعمر(۲) یعنی جمعہ کے دن اذان دروازہ مسجد پر حضور صالی اسلام اور ابوبکر و عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے زمانہ میں ہوتی تھی۔ واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ