بوقت اقامت حی علی الفلاح پر کھڑا ہونا دلائل کی روشنی میں اور ائمہ ثلاثہ کا مذہب
اقامت کے وقت مقتدیوں کو نماز کیلئے کس وقت کھڑا ہونا چاہئے؟ بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ ا جب مکبر حی علی الفلاح کہے اس وقت امام اور مقتدیوں کو نماز کیلئے کھڑا ہونا چاہئے جولوگ اس کے خلاف شروع ہی سے کھڑے ہوتے ہیں ان کو یہ لوگ برا سمجھتے ہیں اور ان کو طرح طرح سے مطعون کرتے ہیں یہ کہاں تک درست ہے؟ (نوٹ) اس جواب سے پہلے اشتہار کا جواب آخری صفحہ سے پہلے ملاحظہ ہو۔
الجواب : ہمارے ائمہ ثلثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے نزدیک حی علی الفلاح پر کھڑا ہونا مستحب ہے۔ محیط و ہندیہ میں ہے: يقوم الامام والقوم اذا بلغ المؤذن حى على الفلاح عند علمائنا الثلثه هو الصحيح کذافی المضمرات () اور شروع تکبیر سے کھڑا ہونا مکروہ ہے حدیث شریف میں اس سے ممانعت آئی۔ چنانچہ ارشاد ہوا: فلا تقومواحتی ترونی قد خرجت (۲) مجھے جب تک حجرہ انور سے باہر آتا نہ دیکھ لو کھڑے نہ ہو۔ ہمارے علماے اعلام فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص دوران اقامت مسجد میں آئے بیٹھ جائے اور کھڑے کھڑے ختم اقامت کا انتظار نہ کرے پھر جب مؤذن حی علی الفلاح کہے تب کھڑا ہو۔ (1) در مختار میں ہے : دخل المسجد و المؤذن يقيم قعد الی قیام الامام في مصلاه (۳) 1 الفتاوى الهندية ، ج ۱، ص ۱۱۴ ، كتاب الصلوة الفصل الاول، دار الفكر بيروت (۲) الصحيح المسلم، ج ۱، ص ۲۲۰، کتاب الصلوۃ، باب متى يقوم الناس للصلوة، مجلس بركات (۳) الدر المختار، ج ۲، ص ، كتاب الصلوۃ ، باب الاذان، دار الكتب العلميه بيروت اس کے تحت رد المحتار میں ہندیہ سے ہے:ويكره له الانتظار قائما ولكن يقعد ثم يقوم اذا بلغ المؤذن حى على الفلاح اس نفیس مسئلہ کے متعلق چند عبارتیں تھیں جو نقل ہوئیں اور ان سے بہت زائد عبارات فقہ حنفی کی کتب میں موجود ہیں جن کو بحیثیت مجموعی افاضہ جبد الکرامہ میں تحریر فرمایا گیا ہے اور رسالہ مبارکہ عظیم النجاح بھی اس باب میں وافی و کافی ہے مکاتب اہلسنت سے طلب کر کے ملاحظہ فرمائیں اور یہی چند حروف اشتہار ھذا کے ابطال کیلئے کافی ہیں اور اشتہار میں یہ صریح بہتان جڑا ہے کہ حی علی الفلاح پر ہی امام و مقتدیوں کے کھڑے ہونے کو ضروری قرار دینا، ہم اہلسنت اسے لازم نہیں سمجھتے مستحب جانتے ہیں اور جو کہا کہ بلکہ اس کے خلاف شروع تکبیر پر کھڑے ہونے کو بہتر سمجھا گیا ہے یہ فقہ حنفی کی صریح مخالفت اور کھلی غیر مقلدیت ہے۔ محیط وہند یہ وجامع المضمرات سے ابھی گزرا کہ حی علی الفلاح پر امام مقتدی کو کھڑا ہونا مستحب ہے اور درمختار ورد المحتار سے گزرا کہ اقامت کے دوران آئے تو بیٹھ جائے اور کھڑے رہ کر انتظار ختم اقامت کرنا مکروہ ہے۔ اور آیات سے استدلال بے محل ہے اور خود مجتہد بننا ہے اور ان ائمہ کی تجہیل کرنا مکروہ ہے وہ لوگ کیا ان آیات سے بے خبر تھے؟ بلکہ معاذ اللہ کیا حضور علیہ السلام بھی بے خبر تھے؟ فلا تقوموا حتی ترونی فرما کر پہلے سے کھڑے ہونے سے ممانعت فرما رہے ہیں اور اسی پر اگر بنا ہے تو مستحب بھی لازم ہوگا کہ اقامت سے پہلے کھڑے ہو جاؤ اور معمول صحابہ اس ممانعت سے پہلے تھا تو اس سے استدلال نادرست۔ اور جو کہا کہ شروع تکبیر پر ہی کھڑے ہونے کا حکم فقہ حنفی کی مستند ومعتبر کتب فتاویٰ سے ملتا ہے الخ ۔ یہ اشتہار کا صریح فریب ہے جن عبارتوں میں حی علی الفلاح پر کھڑے ہونے کا استخبابی حکم ہے چھپالیا اور امام کے سامنے اور صفوں سے گزرنے کی صورت کا حکم نقل کر لایا اور صفوں کو سیدھا اور درست رکھنا کوئی ایسا دیر طلب کام نہیں ہے جس کے لئے شروع اقامت سے کھڑا ہوا جائے۔ صفوں کی درستگی تو یہ ہے کہ کندھوں سے کندھے ملا کر کھڑے ہوں یہ کام چند منٹ کا بھی محتاج نہیں تو جو کہا کہ اس کے علاوہ شروع تکبیر ہی سے کھڑے ہونے میں ایک دوسرے انتہائی اہم حکم شرع کی رعایت پورے طور سے ہو سکتی ہے اور وہ ہے صفوں کو سیدھا اور درست رکھنا، مہمل حیلہ ہے۔ پھر اس کی تقریر پر شروع اقامت میں کھڑا ہونا لازم ہو گا کہ اس اشتہار میں اس منقولہ عبارت کے کچھ بعد یہ لکھا کہ ایک حدیث پاک میں اس کا اہتمام نہ کرنے پر سخت وعید وارد ہوئی ہے حالانکہ اشتہار میں صاف مان لیا تھا کہ شروع اقامت میں کھڑا ہونا بہتر ہے اور طحطاوی کی عبارت کا جو تر جمہ اشتہار میں لکھا جو یوں ہے کہ اور ظاہر مطلب اس کا یہ ہے کہ اس کے بعد تاخیر سے بچا جائے الخ ۔ اس عبارت میں لفظ ظاہر سے صاف ہے کہ علامہ طحطاوی کی یہ بحث ہے جو خلاف مذہب حنفی ہے پھر اس پر ان کو جزم بھی نہیں اور کہنا کہ میں ان کے مساعد و مؤید بھی نہیں یونہی قول نا معتبر ہے اس کے برخلاف اشتہار کا طحطاوی کے دوسرے قول کو نامعتبر بنانا خو دغلط و مہمل ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالجملہ اشتہار مذکور کا مضمون مذہب حنفی کے صریح خلاف ہے اور واہیات دعووں پر مشتمل ہے فقیر بحمدہ تعالیٰ عازم زیارت آستانه سرکار اعظم و حج ہے اس لئے مفصل رد سے قاصر ۔ فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله الجواب : فی الواقع پوسٹر مذکور جہل و نادانی کا دفتر ہے اور وہابیت کی عکاسی کرتا ہے جو حوالہ قرآن وحدیث کا نقل کیا گیا ہے وہ اس مقصد کیلئے دلیل نہیں ہے محض زور زبان سے اس کو دلیل بنانا ہے۔ دیانتداری کا تقاضا یہ تھا کہ ان روایتوں کو ذکر کرتے اور علمائے کرام کا کلام سمجھنے کی کوشش کرتے پھر عہد نبوی وصحابہ کرام کا اسوہ حسنہ معلوم ہوتا اپنے مطلب کی روایت کو لیکر قوم کو دھوکہ وفریب دینا وہابیت کی پرانی چال ہے جس روایت کو پوسٹر والے نے نقل کیا ہے اور اس کے مثل جن روایتوں سے ابتدائے اقامت سے کھڑا ہونا معلوم ہوتا ہے وہ بیان جو از کیلئے محمول ہیں یا کسی عذر کی بنا پر ایسا ہو اور حدیث فلا تقوموا حتى تروني اس کے بعد کا ارشاد ہے شارح حدیث نے دونوں کی روایتوں کو ذکر فرمایا ہے اور دونوں میں تطبیق بھی فرمائی ہے۔ فتح الباری شرح بخاری میں حدیث ابوہریرہ وغیرہ کوذکر کر کے فرمایا: فيجمع بينه و بین حدیث ابی قتادة بأن ذلك ربما وقع لبيان الجواز (1) فتح البارى، ج ۲، ص ۱۵۸ کتاب الاذان، باب متى يقوم الناس اذا رأوا الامام عند الاقامة دار الفيحاء دمشق یعنی حدیث ابوہریرہ اور حدیث ابی قتادہ جواز کیلئے واقع ہوئیں۔ علامہ بدر الدین عینی شرح بخاری عمدۃ القاری میں فرماتے ہیں: قلت وجه الجمع بينهما أن بلالا كان يراقب خروج النبي صلى الله عليه وسلم من حيث لايراه غیره اوالا القليل فعند اول خروجه يقيم ولا يقوم الناس حتى يروه ثم لا يقوم مقامه حتى يعدل الصفوف و قوله في رواية ابى هريرة فيأخذ الناس مصافهم قبل خروجه لعله كان مرة او مرتين او نحو هما لبيان الجواز اولعذر ولعل قوله صلى الله عليه وسلم فلا تقوموا حتى ترونی کان بعد ذلك قال العلماء والنهى عن القيام قبل ان يروه لئلا يطول عليهم القيام لانه قد يعرض له عارض فيتأخر بسببه (۱) یعنی ان روایات میں تعارض ہے میں کہتا ہوں کہ ان روایات میں مطابقت کی صورت یہ ہے کہ حضرت بلال حضور علیہ الصلاۃ والسلام کے ( کا شانہ اقدس سے ) باہر تشریف لانے کے ایسی جگہ سے منتظر رہتے تھے ( کہ خروج کے وقت ) بجزر حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حضور صلی یہ تم پر کسی کی نظر ہی نہ پڑتی یا نظر پڑتی مگر قلیل کی ایک آدھ کی حضور کے اول خروج پر حضرت بلال اقامت کہنا شروع کرتے اور لوگ کھڑے نہ ہوتے مگر جب حضور کو دیکھ لیتے پھر حضور اکرم صلی ہی ہم اپنی جگہ پر نہ کھڑے ہوتے یہاں تک کہ صفیں برابر کر لی جاتیں اور امام بخاری کا کہنا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث میں یوں وارد ہے کہ حضور کے نکلنے سے پہلے لوگ صفوں میں اپنی اپنی جگہ پر قبضہ کر لیتے (اس کا جواب یہ ہے) کہ شاید ایک یا دومرتبہ یا اس کے مثل بیان جواز کیلئے یا کسی عذر سے ہوا تھا حضور اقدس صلیم کا یہ فرمان کہ صفوں میں نہ کھڑے ہو یہاں تک کہ مجھے آتا دیکھ لو امید کہ اس کے بعد ارشاد ہوا ہو علما فرماتے ہیں کہ امام کے دیکھنے سے پہلے جو قیام کی ممانعت کی گئی اس کی علت یہ ہے کہ نمازیوں پر قیام طویل نہ ہو جائے اور اس لئے بھی کہ کبھی امام کو کوئی عارض پیش آ جاتا ہے کہ جسکی وجہ سے تاخیر ہوتی ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہوا کہ ابتدائے اقامت کی بھی جو روایتیں ہیں وہ بیان جواز کیلئے ہیں حضور اکرم سالی ایم کی (1) عمد القاری ج ۵ ص ۲۲۵ کتاب الاذان باب متى يقوم الناس اذارأوا الامام عند الاقامة، دار الكتب العلميه بيروت عادت مستمر و نہیں تھی اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالٰی علیہم اجمعین اس پر علی الدوام عامل نہ تھے بلکہ یہ فعل ممانعت سے پہلے تھا۔ ممانعت کے بعد صحابہ کرام ابتدائے اقامت سے کھڑے نہ رہتے اور علامہ بدر الدین عینی کے یہاں سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ حضور صلی یہ اہم اقامت کے بعد صفوں کو درست فرماتے تھے لہذا صفوں کی درستگی کا بہانہ کرنا محض فریب ہے۔ اس سے عہد نبوی وصحابہ کرام کا اسوہ حسنہ ظاہر اور پوسٹر والے کا جھوٹ ہو ید ا ہو گیا اس نے صحابہ کرام کا عمل کب دیکھا ہے؟ عمدۃ القاری شرح بخاری میں ہے: و كان انس رضی اللہ تعالی عنه يقوم اذا قال المؤذن قد قامت الصلاة (1) حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس وقت قیام فرماتے جب مکبر قد قامت الصلاۃ کہتا۔اور حضرت ہشام بن عروہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو جلیل القدر تابعین ثقات سے ہیں وہ قبل قد قامت الصلاۃ قیام کو مکر وہ جانتے تھے۔ عمدۃ القاری میں فرمایا ہے: و کره هشام بن عروة ان يقوم حتى يقول المؤذن قد قامت الصلاة (۲) ائمہ ثلاثہ حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ وامام ابو یوسف و محمد رحمہا اللہ تعالیٰ کا مذہب یہی ہے کہ حی علی الفلاح پر کھڑا ہونا مستحب ہے شاید ان حضرات کو پوسٹر میں نقل کردہ آیات واحادیث کی خبر نہ ہوئی ہو چودہ سو برس کے بعد دیو بندیوں وہابیوں کو الہام ہوا ہے کہ ان آیات سے اذان واقامت شروع ہوتے ہی کھڑا ہونا بہتر ہے مگر کوئی وہابی دیوبندی اذان شروع ہوتے ہی کھڑا نہیں ہوتا ہے اور جھوٹ یہ لکھ دیا کہ معتبر روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام کا معمول یہی تھا حالانکہ اوپر علامہ بدر الدین عینی وغیرہ کی تصریح ہے کہ صحابہ کرام ابتدائے اقامت سے کھڑے نہیں ہوتے تھے حضرت انس و ہشام رضی اللہ عنہما کا صریح قول نقل ہوا ائمہ ثلثہ کا قول بھی نقل ہوا مگر دیو بندیوں کو ابھی وہی رٹ ہے کہ جس ضد و ہٹ دھرمی پر وہ قائم ہیں وہ حق ہے والعیاذ باللہ تعالیٰ واللہ الھادی و ہو تعالیٰ اعلم فقیر اختر رضا خاں قادری از هری غفرله (1) عمدة القاری شرح بخاری، ج ۵، ص۲۲۴ ، كتاب الاذان، باب متى يقوم الناس للصلوة، دار الكتب العلميه بيروت (۲) عمدة القاری شرح بخاری، ج ۵، ص ۲۲۴ ، كتاب الاذان، باب متى يقوم الناس للصلؤة، دار الكتب العلميه بيروت