اقامت کھڑے ہو کر سننا کیسا ؟ جمعہ میں اذان ثانی کہاں ہو؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسائل ذیل کے بارے میں کہ: (۱) اقامت کھڑے ہوکر سننا کیسا ہے؟ (۲) جمعہ میں اذان ثانی کہاں ہونی چاہیے؟ فقط المستفتی: ریاض احمد خاں (ناظم اعلی ) دار العلوم مخدومیہ محلہ صوفیانہ رود ولی شریف ضلع بارہ بنکی یوپی
الجواب: (1) امام و مقتدی دونوں جبکہ مسجد میں موجود ہوں تو مستحب ہے کہ حی علی الفلاح پر کھڑے ہوں ۔ عالمگیری میں ہے: يقوم الامام والقوم اذا بلغ المؤذن حى على الفلاح عند علمائنا الثلثة هو الصحيح کذافی المضمرات () اور کھڑے ہوکر تکبیر سنا مکروہ ہے ہمارے علمائے کرام فرماتے ہیں کہ اگر اقامت ہوتے میں مسجد میں آیا تو ختم تک کھڑا رہنا مکروہ ہے لہذا حکم شرع ہے کہ بیٹھ جائے اور حی علی الفلاح پر کھڑا ہو در مختار وردالمحتار میں ہے: دخل المسجد و المؤذن يقيم قعد الی قیام الامام في مصلاه ويكره له الانتظار قائما ولكن يقعد ثم يقوم اذا بلغ المؤذن حى على الفلاح (۲) (۲) اذان خارج مسجد حدود مسجد میں مسنون ہے مسجد کے اندر کوئی اذان جائز نہیں۔ ہند یہ وقاضی خاں میں ہے: ينبغي ان يؤذن على المئذنة او خارج المسجد ولايؤذن في المسجد (۳) (1) الفتاوى الهندية، ج ۱، ص ۱۱۴ ، كتاب الصلوة، فصل اول دار الفکر بيروت (۲) رد المحتار ج ۲ ص ، کتاب الصلوۃ، باب الاذان، دار الكتب العلميه بيروت (۳) الفتاوى الهندية ، ج ۱، ص ١٢ ا ، كتاب الصلوة ، الباب الثاني في الاذان ، دار الفکر بيروت طحطاوی میں ہے: یکره ان يؤذن في المسجد (1) كتا الصلوة / باب الاذان تفصیل کیلئے او فی اللمعہ فی اذان الجمعہ وغیرہ رسائل سید نا اعلیحضرت قدس سرہ دیکھئے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۲۷ ذیقعد ۹۹۰ھ (1) الطحطاوي علی المراقی، ص۱۹۷، کتاب الصلوۃ، باب الاذان، دار الكتب العلميه بيروت