مسجد کے اندر اذان دینے کی ممانعت اور خارج مسجد کے مسنون ہونے کا بیان
ہنگامہ ہوگا۔ تحریری جواب وزنی معلوم ہوتا ہے لیکن اس میں کوئی خلجان نہیں کیونکہ نہ عوام کے ذریعہ ہنگامہ ہوگا نہ کوئی فتنہ کیونکہ سبھی عوام سنی امام صاحب کو چاہنے والے ہیں، جو بتا دیا جائے آمنا صدقنا پھر اس مسجد کے متولی کے خاندان کا شروع سے عوام کے ساتھ ایسا رابطہ رہا کہ دوست تو دوست دشمن میں بھی اتنی ہمت نہیں کہ منہ پر ایک لفظ خلاف بول سکے۔ اخلاق کا دریا جس خاندان کے یہاں سے بہے عوام اس خاندان کے اقرار سے متنفر کیسے ہوگی؟ نہ پہلے کبھی ہوئی اور نہ آج بلکہ انتہائی عزت و احترام کی نگاہ سے یہاں کے عوام اس خاندان کے افراد بالخصوص اس مسجد کے متولی اور ان کے لڑکے یعنی (راقم الحروف) کو دیکھتے ہیں۔ ہر بات میں ساتھ ہیں جان دینے کو تیار۔ پھر یہ کیسے ممکن ہے سو چا بھی نہیں جا سکتا کہ انہی عوام کے سامنے صحیح مسئلہ شرعی جب پیش کیا جائے تو ٹھکرا دے اور فتنہ برپا کر دے؟ یہ ضرور ہے کہ پوچھیں گے کہ نئی چیز یہاں مسجد میں ہوئی تو امام صاحب کس لئے ہیں ہم اور میرے ساتھ کے نو جوان کس لئے ہیں جس طرح سے دیگر باتیں اور مسائل سمجھاتے ہیں یہ بھی سمجھا ئیں ۔ اسلئے امام صاحب کا یہ کہنا اپنا بچاؤ ہے جب متولی ساتھ ان کا لڑکا ساتھ یعنی میں ( جاوید ) چند شیر دل نو جوان ساتھ پھر کترانا چه معنی دارد؟ مسجد کا انتظام چندہ پر نہیں ہوتا میرے خاندان کے معزز فرد نے دوکانیں جب ساری وقف کیں وصیت کے مطابق انہیں کے خاندان کے افراد مسجد کا انتظام دیکھا کرتے ہیں ۔سلسلہ چلا آ رہا ہے پھر کس کی مجال کہ آنکھ دکھا سکے؟ پہلے تو عزت و آبرو کو ہم نے داؤں پر لگایا ہے کیونکہ انتظام کا وہم تھا بعد کو دوسرے اگر عزت و آبر و نیلام ہو کر بھی دوسنت مردہ زندہ ہو جاتی ہے تو یقینا ایسی عزت و آبرو ہزار ویران ہو، خوشی ہونی چاہیے نہ کہ کترانا چاہیے۔ بہر کیف تفصیلی طور پر معاملات سامنے رکھ دئے حضور سے گزارش ہے کہ اس مسئلہ پر شریعت کا کیا فتویٰ و فیصلہ ہے پیش کریں۔ المستفتی: سید جاوید اشرف چشتی رضوی نظامی (ایم اے ایل) بھائی امام الدین صاحب رضوی قادری
الجواب: اذان خارج مسجد حدود مسجد میں مسنون ہے اور خاص موضع صلاۃ میں اذان دینا مکروہ خلاف سنت و ناجائز و ممنوع ہے۔ عالمگیری میں خانیہ سے ہے: ينبغي ان يؤذن على المئذنة او خارج المسجد ولا يؤذن في المسجد (1) یکره ان يؤذن في المسجد (۲) طحطاوی علی المراقی میں ہے: تنبیین و ہدا یہ میں ہے: والمكان في مسألتنا مختلف (۳) فتح القدیر میں اس کے تحت ہے: اى المعهود اختلاف مكانهما وهو كذلك شرعا والاقامة في المسجد ولا بد و اما الاذان فعلى المئذنة فان لم يكن ففى فناء المسجد وقالوالايؤذن في المسجلوم) اسی کے باب الجمعہ میں ہے: هو ذكر الله في المسجداى في حدوده لكراهة الاذان في داخله (ه) بلکہ خود حدیث میں مصرح که اذان جمعہ زمانہ اقدس نبی کریم علیہ الصلاۃ والسلام و صدیق و فاروق میں دروازہ مسجد پر جمعہ کے دن خطیب کے سامنے ہوتی تھی چنانچہ ابو داؤد شریف میں حضرت سائب بن یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہے: انه كان يؤذن بين يدى رسول الله ﷺ اذا جلس على المنبريوم الجمعة على باب المسجد وابى بكر و عمر (1) اور امام و مقتدی جب مسجد میں ہوں تو کھڑے ہو کر تکبیر سنا مکروہ ہے بلکہ بیٹھ جائے اور حی علی الفلاح پر کھڑا ہو۔ درمختار میں ہے: دخل المسجد و المؤذن يقيم قعد الی قیام الامام في مصلاه ) رد المحتار میں ہے: ويكره له الانتظار قائما ولكن يقعد ثم يقوم اذا بلغ المؤذن حى على الفلاح) امام و مقتدی سب کو شرع پر عمل کرنا ضرور۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله