جمعہ کی اذان ثانی خارج مسجد دینے کی وضاحت
سوال
جمعہ کے دن مسجد میں اذان کہی جاتی ہے اس دن جمعہ کی ثانی اذان کس جگہ دی جائے اندرون مسجد دی جائے یا خارج مسجد اذان دی جائے اور خارج مسجد کس جگہ کو کہتے ہیں؟ اس کا صاف جواب قرآن و احادیث سے عنایت فرمائیں۔
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: المستفتی بمسلمانان کلنک اڑیسہ اذان خارج مسجد حدود مسجد میں مثلاً وضو گاه یا دروازہ یا فصیل پر کہنا مسنون ہے اور خاص موضع صلاۃ میں کوئی اذان جائز نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی ۲۰ ذیقعده ۱۴۰۱ھ
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۳ · صفحہ ۹۳
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
مسجد کے اندر اذان دینے کی ممانعت اور خارج مسجد کے مسنون ہونے کا بیان
باب: کتاب الصلوٰۃ
بوقت اقامت حی علی الفلاح پر کھڑا ہونا دلائل کی روشنی میں اور ائمہ ثلاثہ کا مذہب
باب: کتاب الصلوٰۃ
اقامت کھڑے ہو کر سننا کیسا ؟ جمعہ میں اذان ثانی کہاں ہو؟
باب: کتاب الصلوٰۃ
خطبہ کی اذان مسجد کے اندر کیوں ہوتی ہے؟ باہر کیوں نہیں ہوتی ؟
باب: کتاب الصلوٰۃ
فاسق کی اذان و اقامت، تبلیغی جماعت اور بہار شریعت کی حجیت سے متعلق سوالات
باب: کتاب الصلوٰۃ