فاسق کی اذان و اقامت، تبلیغی جماعت اور بہار شریعت کی حجیت سے متعلق سوالات
کہنے والا وظیفے میں جماعت کا وقت دیکھتے ہوئے مصروف ہوا تھا کہ وقت پر فارغ ہو جاؤنگا۔ اس کے با وجود ایک فاسق نے مسجد کے ایک کونے سے آکر مسجد کی گھڑی دیکھی اور ممبر کے سامنے کھڑا ہوکر کہنے لگا کہ وقت ہو گیا ہے۔ اسی پر پیش امام نے کہا کہ تکبیر کہیے اتنے میں ایک شخص نے کہا کہ فلاں شخص نے اذان کہی ہے اس پر امام صاحب نے کہا کہ کوئی اور کہہ دے لیکن فاسق کی طرف نہ تو اشارہ کر کے کہا اور نہ ہی نام لیکر کہا تھا جبکہ جس نے اذان کہی تھی اس کے علاوہ اور دو شخص متبع سنت موجود تھے انکا لحاظ نہ کرتے ہوئے فاسق نے اقامت کہی فاسق دو چارہی الفاظ کہ پایا تھا کہ جس نے اذان کہی تھی وہ فارغ ہوکر روکتے ہوئے اقامت کہی کہ یہ حق میرا ہے آپ بیٹھیں آپ کو کس نے اجازت دی جس پر فاسق نے کہا کہ امام نے دی فاسق استرا پھر وانے (داڑھی ) کتروانے کا عادی ہے اور وہابیہ عقائد کے لوگوں سے تعلق بھی رکھتا ہے جبکہ فاسق کو تنہائی میں کئی بار اس مسئلہ سے آگاہ کیا پڑھ کر کتابوں سے سنایا ( کہ متبع سنت جب تک نہ ہوں تو آپ کو اذان واقامت پیش امامتی کرنے کا حق نہیں ہے جیسا کہ بہار شریعت قانون شریعت الملفوظ ( اعلیحضرت) جیسی کتابوں میں ہے) پھر بھی اس دن فاسق اپنی حرکت سے باز نہیں آیا فاسق کو اس بات کا احساس ہے کہ میری عام لوگوں کے سامنے بے عزتی کی اور پیش امام کی اذان دینے والے نے نافرمانی کی جس سے وہ اور ان کے ساتھیوں نے مسجد میں آنا ترک کر دیا۔ جنکی تعداد چار پانچ ہے۔ جو سب و ہا یہ لوگوں سے تعلق رکھتے ہیں ایسے شخص کیلئے شریعت مطہرہ کی رو سے کیا حکم ہے؟ (۲) کیا ایسا شخص اذان واقامت اور نماز پڑھا سکتا ہے اور وہ اگر ایسا کرتا ہے تو کیا حکم ہے کیا اس شخص کی واقعی بے عزتی ہوئی ؟ جبکہ مؤذن نے انکی بے عزتی کرنے کے خیال سے منع نہیں کیا۔ (۳) کیا مؤذن نے واقعی پیش امام کی نافرمانی کی؟ اگر ہاں تو کیا نماز بھی جماعت کی ہو گئی یا نہیں؟ (۴) جن مسائل میں قرآن وحدیث کا حوالہ نہیں دیا ہوتا ہے تو پھر عمل کرنا چاہئے یا نہیں کیونکہ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ (جنگی گنتی او پر تحریر کی گئی ہے ) بہار شریعت قانون شریعت جیسی کتابیں جد و جہد میں لکھی گئی ہیں جن میں قرآن وحدیث کا حوالہ نہیں۔ (۵) تبلیغی جماعت کی باتیں سننا، ان کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا اور ان کا ساتھ دینا کیسا ہے؟ اور تبلیغی جماعت کو اور ان کا ساتھ دینے والوں کو کافر کہا جا سکتا ہے یا نہیں؟ مستلقی: شیخ کریم قادری رضوی مصطفوی، پوسٹ ماسٹر دیو بند رنگ ضلع ستنا، ایم بی
الجواب: (۱، ۲) فی الواقع اقامت کا حق اسی کو ہے جس نے اذان کہی ۔ حدیث میں ہے : من اذن فھو یقیم () اور فاسق کی اذان واقامت مکروہ ہے بلکہ اس کی اذان غیر صحیح ہے۔ در مختار میں ہے: یکرہ اذان الفاسق (۲) اسی میں ہے : جزم المصنف بعدم صحة اذان مجنون و معتوه وصبى لا يعقل الخ (۳) اور اس کا اپنی بے عزتی خیال کرنا اسی کا کبر و غرور ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) نہیں ، اور نماز ہوگئی۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) علما شارع علیہ السلام کے امین اور قرآن وحدیث کی فہم رکھنے والے اور شرع کے راز دار ہوتے ہیں۔ میزان الشریعۃ الکبری میں ہے: اذهم (العلماء) امناء الشارع على شريعته وہ جو مسئلہ ارشاد فرماتے ہیں قرآن وحدیث ہی سے مستفاد ہوتا ہے تو ان کی اطاعت اللہ ورسول کی اطاعت اور انکی نافرمانی اللہ ورسول کی نافرمانی ہے۔ قال تعالیٰ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ - الآية (٢) وہ لوگ مسائل شرع مانیں اور نافرمانی سے تو بہ کریں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) حرام ہے۔ اور ان کے کفریات پر مطلع ہو کر ان کے عقائد باطلہ سے راضی ہونا کفر ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۹ / رجب المرجب ۱۴۰۲ھ جامع الترمذى، ج ۱، ص ۲۸، کتاب الصلوة ابواب الصلوة، مجلس برکات مبارک پور (1) (۲) الدر المختار، ج ۲، ص ۲۱ ، كتاب الصلوة باب الاذان، دار الكتب العلميه بيروت (۳) الدر المختار، ج ۲، ص ۶۱ ، كتاب الصلوۃ، باب الاذان، دار الكتب العلميه بيروت سورة النساء: ۵۹ (۴)