مسجد میں اذان دینے، حی علی الصلاۃ پر منہ پھیرنے اور وقت عشاء سے متعلق مسائل
دائیں بائیں نہ پھیرے بلکہ کان کی لوکو پکڑ کر ہلاتا رہے اور اقامت میں کوئی جملہ چار کے بجائے ۳ یا ۵ مرتہ کہہ دے تو ایسی اذان واقامت اور نماز صحیح ہوگی یا قابل اعادہ؟ (۲) بہار شریعت حصہ سوم کے مطابق آج کی مغرب اور فجر کا وقت ارگھنٹہ ۳۵ منٹ ہے مغرب کی اذان کے جگر ۳۳ منٹ پر ہورہی ہے تو ۹ بجے عشاء کی اذان کہ کر سوا نو بجے عشاء کی جماعت کرنا صحیح ہے یا 9 بجکر ۱۰رمنٹ پر اذان عشاء کہنا صحیح ہے۔ یا۹؍بجکر
الجواب: مسئلتی محمد سرور میر خاں ، خطیب جامع مسجد بھو پال تنتج بھیلواڑی راجستان (۱) مسجد ( کہ موضع صلاۃ ہے ) میں اذان دینا مکروہ تحریمی ہے۔ طحطاوی حاشیہ مراقی الفلاح میں ہے : یکرہ ان یؤذن فی المسجد (1) والكراهة تحريمة لانها المحمل عند اطلاقهم الكراهة التحريمية كما في البحر وغيره اور حی علی الصلاۃ حی علی الفلاح کہتے ہوئے منہ دائیں بائیں گھمانا سنت ہے جسکے ترک کا عادی گناہ گار ہے اس سے اذان نہ کہلوائی جائے اور خلاف سنت اذان بروجہ مسنون اعادہ چاہئے اور اقامت کے الفاظ میں کمی یا بیشی بدعت ہے جو اس کا عادی ہو وہ لائق افتامت نہیں ہے اور نماز بہر حال ہو جائے گی۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) ۹ بجے اذان نہ کہی جائے کہ قبل از وقت ہوگی ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ