اذان کے خارج مسجد حدود مسجد میں ہونے کا ثبوت کتب فقہ سے
یا پیر روشن ضمیر حضور مفتی اعظم ہند قبلہ مدظلہ العالی السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ عاجزانہ التماس عرض کر رہا ہوں علمائے دین ہماری باتوں کو زیر غور کریں۔ اذان پنجوقتہ یا اذان ثانی جمعہ داخل مسجد ہو یا خارج مسجد ہو یہ مسئلہ قرآن وحدیث سے ضروری ہے۔ المستفتی : حافظ عاشق علی شاہ قادری موضع بھیلولی پوسٹ حستی بڑا ڈاکخانہ ہند کی ضلع فتح پور
الجواب: اذان خارج مسجد حدود مسجد میں مسنون ہے اور خاص موضع صلاۃ میں کوئی اذان جائز نہیں ہند یہ میں فتاویٰ قاضی خاں سے ہے : (1) وو ينبغي ان يؤذن على المنارة او خارج المسجد ولا يؤذن في المسجد ) الفتاوى الهندية، ج ۱، ص ۱۱۲ ، كتاب الصلوة، الباب الثاني في الاذان، دار الفکر بيروت طحطاوی میں ہے : یکرہ ان یؤذن فی المسجد ) فتح القدیر میں زیر قول ہدایہ والمکان فی مسئلتنا مختلف‘ (۲) ہے: اى المعهود اختلاف مكانهما والاقامة فى المسجد ولا بد واما الا ذان فعلى المئذنة فان لم يكن ثمه ففى فناء المسجد وقالو الايؤذن في المسجد (۳) اسی کے باب الجمعہ میں ہے: هو ذكر الله في المسجداى في حدوده لكراهة الاذان في داخله (۴) فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۵ / ربیع الاول ۱۴۰۱ھ