جمعہ کی اذان ثانی کا مقام اور عہد نبوی میں اذان جمعہ کی تعداد
اذان ثانی مسجد کے اندر ہو یا باہر؟ کیا حضور کے زمانے میں جمعہ میں ایک ہی اذ ان تھی؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: مسجد کے اندر اذان ثانی یعنی خطبے کی اذان کیسی ہے؟ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں کہاں ہوتی تھی؟ اور صحابہ کرام کے زمانہ میں کہاں ہوتی تھی؟ لہذا حضرت سے گزارش ہے کہ تحریر حدیث اور مع حوالہ کتاب جواب عنایت فرمائیں معین نوازش ہوگی۔ اور مع عنایت المستفتی محمد شہاب الدین رضوی نوری پورنوی بهاری
الجواب: زمانہ اقدس حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما میں ایک ہی اذان تھی (1) اذان برائے خطبہ جمعہ اور یہ دروازہ مسجد پر منبر اقدس کے سامنے ہوا کرتی تھی ابو داؤد شریف میں حضرت سائب بن یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے: انه كان يؤذن بين يدى رسول الله ﷺ اذا جلس على المنبر يوم الجمعة على باب المسجد وابى بكر وعمر (1) اور کبھی منقول نہیں کہ صحابہ کرام نے یا تابعین عظام نے اس سنت کو بدلا ہو۔ لہذا اذان خارج مسجد حدود مسجد میں مسنون ہے اور خاص مسجد کے اس حصہ میں جو موضع صلاۃ ہے کوئی اذان جائز نہیں ہندیہ میں خانیہ سے ہے: ’’ينبغي ان يؤذن على المئذنة وخارج المسجد‘‘ (2) فتح القدیر میں زیر قول ھدایہ و المكان في مسألتنا مختلف (3) ہے: يفيد كون المعهود اختلاف مكانهما وهو كذالك شرعاً والاقامة في المسجد ولا بد واما الاذان فعلى المئذنة فان لم يكن ففى فناء المسجد و قا لوا لا يؤذن في المسجد‘‘ (4) ملتقطاً طحطاوی علی المراقی میں ہے: يكره ان يؤذن فی المسجد (5) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۳ رصفر المظفر ۱۴۰۲ھ صبح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی (1) سنن ابی داؤد، ج ۱، ص ۱۵۵، کتاب الصلوة، باب وقت صلوة الجمعه اصح المطابع (2) الفتاوى الهندية، ج ١ ، ص ١١٢ ، كتاب الصلوة، الباب الثاني في الاذان، دار الفکر بيروت (3) الهداية ، ج ۱، ص ۸۹ كتاب الصلوة، باب الاذان، مجلس بركات (4) فتح القدير ، ج ۱، ص ۲۵۰ ، كتاب الصلوۃ، باب الاذان بركات رضا (5) الطحطاوي على المراقى ، كتاب الصلوۃ، باب الاذان ، ص ۱۹۷ ، دار الكتب العلميه بيروت