اذان ثانی اندرون مسجد دینے کا حکم اور اس کے متعلق اعتراضات کے جوابات
عمر فاروق نامی شخص یہاں اذان ثانی کے متعلق چند اعتراض کرتا ہے موصوف کا اعتراض بہت بڑے فتنہ کا سبب بن گیا ہے۔ خدمت اقدس میں اس کا اعتراض پیش کر رہا ہوں امید قوی ہے کہ مدلل و کافی وشافی جواب عنایت کیا جائے گا جواب جلد عنایت فرما کر شکریہ کا موقع عنایت کریں بینوا تو جروا۔ اعتراض (۱) جمعہ کے دن صف اول میں اگر اذان ثانی دی جائے تو نماز ہوگی یا نہیں؟ اعتراض (۲) اذان ثانی اندرون مسجد یا بیرون مسجد دی جائے اس میں کیا مصلحت ہے؟ اعتراض (۳) اذان کی ابتدا کب ہوئی نیز سب سے پہلے اذان کس نے دی زمانہ نبوی سالی یا یہ تم میں اذان ثانی داخل مسجد ہوتی تھی یا خارج مسجد ؟ سائل : آپ کا کفش بردار محمد ریاض الدین موضع فرصت پور کھوٹھیاں ڈاک خانہ سو تیہا ضلع سیوان (بہار)
الجواب: نماز ہو جائے گی مگر اذان اندرون مسجد مکروہ وخلاف سنت ہے لہذا مسجد کے اندر کوئی اذان دینا ناجائز ہے۔ ہندیہ میں فتاویٰ خانیہ سے ہے: ينبغي ان يؤذن على المئذنة او خارج المسجد ولا يؤذن في المسجد (1) طحطاوی، خانیہ اور مراقی الفلاح میں ہے: يكره ان يؤذن في المسجد كما في القهستاني عن النظم فان لم يكن ثمه مكان مرتفع للاذان يؤذن في فناء المسجد (۲) ہدایہ میں ہے: والمكان في مسئلتنا مختلف (۳) (1) الفتاوى الهندية، ج ا ، كتاب الصلوة، الفصل الثانى فى كلمات الاذان والاقامة، ص ۱۱۲ ، دار الفکر بيروت (۲) الطحطاوي على المراقى، ص ۱۹۷ ، كتاب الصلوة ، باب الاذان، دار الكتب العلميه بيروت (۳) الهداية، ج ۱، ص ۸۹ كتاب الصلوۃ، باب الاذان، مجلس بركات فتح القدیر میں اس عبارت کے تحت ہے: يفيد كون المعهود اختلاف مكانهما وهو كذلك شرعاً والاقامة في المسجد ولا بدو أما الاذان فعلى المئذنة فان لم يكن ففى فناء المسجد وقالوالايؤذن في المسجلو) نیز فتح القدیر کے باب الجمعہ میں خاص اذان جمعہ کے بابت اندرون مسجد کراہت کی تصریح ہے: وهذا نصه هو ذكر الله فی المسجداى فى حدوده لكراهة الاذان في داخله) اور ان تمام عبارتوں سے بڑھ کر حضرت سائب بن یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت ہے جو سنن ابوداؤد شریف میں ہے: انه كان يؤذن بین یدی رسول الله الله اذا جلس على المنبر يوم الجمعة على باب المسجدوابی بکروعمر(۳) یعنی حضور سرور عالم صلی یم اور ابو بکر وعمر رضی اللہ تعالیٰ عنھما کے زمانے میں جمعہ کی اذان مسجد کے دروازے پر خطیب کے سامنے ہوتی تھی تو صاف ظاہر کہ اذان خارج مسجد مسنون اور یہی مصلحت کہ اذان اعلان وقت ہے اور اس کیلئے خارج مسجد مناسب ۔ اسی لئے علامہ عبدالحی فرنگی محلی نے بھی عمدة الرعایة حاشیہ شرح وقایہ میں صاف فرما دیا: قوله بین یدیه) اى المستقبل للامام في المسجد كان او خارجه والمسنون هو الثانی (۴) واللہ تعالیٰ اعلم راجح یہ ہے کہ اذان ہجرت نبویہ علی صاحبھا التحیة کے پہلے سال میں شروع ہوئی ۔ مواہب و زرقانی شرح مواہب میں ہے: (1) (وذلك فيما قيل في السنة الثانية) مرضه لقول الحافظ الراجح: انه شرع في السنة الاولى من الهجرة وروى عن ابن عباس : ان فرض الاذان نزل مع قوله تعالى: يايها الذين آمنوا اذا نودي للصلوة من يوم الجمعة (1) اور سب سے پہلے اذان حضرت بلال نے حضور علیہ السلام کے حکم سے دی چنانچہ عبد اللہ بن زید بن عبدربہ کی حدیث میں ہے کہ حضور علیہ السلام نے ان سے فرمایا: قم مع بلال فالق عليه ما رأيت فليؤذن به فانه اندی صوتامنک (۲) اور باقی سوال کا جواب نمبر ۲ میں گزرا ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۳ / جمادی الاولی ۱۴۰۰ھ