داڑھی منڈے کی اذان، نماز میں کرتے کے بٹن، خطبہ میں اردو، وہابی کا مسجد میں آنا اور تعویذ کا ہدیہ
داڑھی منڈے کی اذان کا حکم انماز میں کرتے کا بٹن لگا ہو، صدری کا نہ لگا ہو تو نماز ہوگی یا نہیں؟ کیا خطبہ جمعہ میں اردو زبان کی آمیزش جائز ہے؟ وہابی مسجد میں آجائے تو کیا کرے؟ تعویذ پر ہدیہ لینے کا حکم ! کیا فرماتے ہیں علمائے دین و شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ:
امستفتی : آپ کا خادم حقیر محمد ریاض الحق رضوی، طیب مسجد کالا در ضلع جامنگر گجرات داڑھی منڈا فاسق ہے اور فاسق کی اذان مکروہ ہے اور صدری کے بٹن لگا لینا بہتر ہے اور نہ لگائے گا تو نماز میں خلل نہ ہوگا اور خطبہ میں عربی کے سوا کوئی زبان ملانا خلاف سنت متوارثہ و مکروہ ہے اور وہابی کے ساتھ نماز پڑھنا حرام ہے۔ حدیث میں ہے: ” لا تصلوا معهم“ (1) اور جماعت میں اس کے شمول سے قطع صف ہوگا پھر وہابیہ کہ اہلسنت کو ناحق مشرک گردانتے ہیں سخت دل آزار مسلمانان ہیں تو بشرط قدرت مسجد سے روکنا انہیں لازم ۔ در مختار میں ہے: ويمنع منه كل موذولو بلسانه_ملتقطاً (٢) اور بدعت حسنہ وہ فرد خاص ہے جو کسی مستحب عام کے تحت داخل ہو اور جائز تعویذ کی اجرت لینا جائز ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۹ محرم الحرام ۱۴۰۱ھ