خطبہ جمعہ کا خالص عربی میں ہونا، مسجد کے باہر اذان اور دیگر متفرق مسائل
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ : جمعہ کے خطبے میں اردو اشعار یا عربی فارسی اشعار پڑھنا کیسا ہے؟ ہمارے یہاں اس بات پر لوگ بحث کرتے ہیں کہ علمی صاحب نے جو خطبہ لکھا ہے اس کے درمیان میں آخر اردواشعار کیوں لکھا؟ اگر پڑھانہ جاتا تو وہ کیوں لکھتے لہذا اگر پڑھا جائے تو منبر پر درمیان خطبہ پڑھا جائے یا خطبہ سے پہلے مصلے پر پڑھ دیا جائے یہ ضروری میں سے ہے یا نہیں لوگ یہ بھی نئی رسم بتاتے ہیں کہ خطبہ کی اذان مسجد کے باہر ہونا نہیں ٹھیک ہے یہ نئی بات ہے اور خطبہ کی اذان میں محمد رسول اللہ پر انگوٹھا چومنا کیسا ہے؟ حی علی الصلاۃ پر بیٹھنے پر بھی لوگ اعتراض کرتے ہیں حالانکہ لوگ سنی عقیدہ کے ہیں لیکن جو پہلے سے کرتے چلے آئے ہیں اس کو پکڑے ہیں لہذا عاجزانہ اپیل ہے کہ ہر بات بحوالہ تحریر فرما کر عنداللہ مشکور ہوں فقط
الجواب: المستفتی محمد حنیف رضوی ، تعلم عزیز العلوم نان پاره خطبہ عربی خالص میں ہونا سنت متوارثہ ہے اور متوارث کا اتباع ضرور ہے۔ در مختار میں ہے : لان المسلمین توارثوه فوجب اتباعهم (1) لہذا خطبہ میں دوسری زبان ملانا مکروہ و خلاف سنت ہے لہذا اردو اشعار پہلے پڑھ لیں اور اذان جمعہ مسجد کے باہر ہی مسنون ہے مسجد کے اندر کوئی اذان جائز نہیں۔ فقہاء مطلقاً فرماتے ہیں : یکره ان يؤذن في المسجد (۲) مسجد کے اندر اذان دینا ہی نئی بات ہے اور خطبہ کی اذان کے درمیان خاموشی کا حکم ہے لہذا انگوٹھے نہ چومنا چاہئے اور حی علی الفلاح پر کھڑا ہونا مسنون ہے پہلے سے کھڑا ہونا مکروہ ہے۔ در مختار میں ہے: والقيام لامام ومؤتم حين قيل حى على الفلاح خلافاً لزفر فعنده عند حی علی الصلاة (1) یہ حکم جب ہے جبکہ امام قریب محراب موجود ہو ورنہ اگر پیچھے سے آئے تو جس صف سے گزرے وہ کھڑے ہو جائیں اور سامنے سے آئے تو نظر اس پر پڑتے ہی سب کھڑے ہو جائیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله