جمعہ کی اذان ثانی کا مقام، باجوں کی ممانعت اور اقامت میں کھڑے ہونے کا وقت
جمعہ کی اذان ثانی کہاں ہو؟ مسجد کے اندر یا باہر؟ با جے شرعا حرام ہیں! مقتدی بوقت اقامت حی علی الفلاح پر کھڑا ہو! کیا فرماتے ہیں علمائے دین متین مسئلہ ذیل میں کہ: (1) جمعہ کی اذان ثانی مسجد کے اندر دی جائے یا بیرون مسجد ۔ قریہ اندرا گڑھ میں یہ مسئلہ فریقین میں اختلاف کا باعث بنا ہوا ہے لہذا کتاب و حدیث کی روشنی میں اصل مسئلہ سے آگاہ فرمائیں تا کہ فریقین متفقہ طریقہ پر عمل کر سکیں؟ (۲) عیدین کی نماز میں عورتوں کے ساتھ عام مسلمان باجے کے ساتھ عید گاہ میں جایا کرتے تھے لیکن قوم کے چند سمجھدار آدمیوں نے یہ رواج پسند نہیں کیا اور کہتے ہیں کہ شریعت مطہرہ کے نزدیک باجا بجانا حرام ہے اس پر لوگوں نے اعتراض کیا۔ (۳) لہذا کتاب و حدیث کی روشنی میں اصل مسئلہ سے آگاہ فرمائیں ۔ تکبیر میں کن الفاظ پر کھڑے ہونا چاہئے یہاں پر چند لوگ اللہ اکبر کہتے ہی کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ (۴) جو حضرات ان مسائل کے جاننے والے ہیں مگر لوگوں کو صحیح طریقہ پر نہیں چلاتے اور لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں اور شریعت کو غلط مانتے اور جو رواج چلا آ رہا ہے اس کو صحیح مانتے ہیں ان آدمیوں کے بارے میں شریعت مطہرہ کا کیا حکم ہے؟ نوٹ : ان سوالوں کے جوابات عید سے پہلے ہی روانہ فرمادیں۔ فقط والسلام المستفتی: احقر العباد قاضی خاں، انجمن سکریٹری اندرا گڑھ
الجواب: (1) اذان جمعہ کی ہو خواہ پنجگانہ نمازوں میں سے کسی نماز کی ، خارج مسجد مسنون ہے اور مسجد کے اندر کوئی اذان جائز نہیں۔ خانیہ وعالمگیری میں ہے: ينبغي ان يؤذن على المئذنة او خارج المسجد ولايؤذن في المسجد (1) فتح القدیر میں اذان جمعہ کے بارے میں ہے: هو ذكر الله فی المسجداى فى حدوده لكراهة الاذان في داخله (۲) بلکہ سنن ابو داؤد شریف میں ہے: عن السائب بن یزید رضی الله تعالى عنه قال كان يؤذن بين يدى رسول الله صلى الله تعالى علیه وسلم اذا جلس على المنبريوم الجمعة على باب المسجد و ابی بکر و عمر(۳) یعنی حضرت سائب بن یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اذان جمعہ کے دن دروازہ مسجد پر حضور رسالت مآب سالی ایم کے روبرو ہوتی اور ایسا ہی عہد صدیق و فاروق میں ہوتا اور کہیں منقول نہیں کہ حضور سایا تم نے کبھی اذان مسجد کے اندر کہلوائی ہو ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) واقعی باجے شرعاً حرام ہیں صحیح حدیث میں ہے: ليكونن من امتى اقوام يستحلون الحر والحرير والخمر والمعازف (٢) یعنی ضرور میری امت میں کچھ لوگ ایسے ہونگے جو شرمگاہوں اور ریشم و شراب اور مزامیر کو حلال ٹھہرائیں گے جنہوں نے ناپسند کیا اچھا کیا اور جو معترض ہوں وہ یہ حدیث دیکھیں اور اسکا مصداق خود کونہ بنائیں اور تو بہ کریں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) جب امام اور مقتدی دونوں مسجد میں ہوں تو حی علی الفلاح پر کھڑے ہونے کا حکم ہے اور پہلے سے کھڑے رہنا مکروہ ہے بلکہ ہمارے علما تصریح فرماتے ہیں کہ اگر ا قامت ہو رہی ہو اور کوئی مسجد میں داخل ہو تو اسے ختم تک کھڑا رہنا مکروہ ہے بلکہ بیٹھ جائے اور حی علی الفلاح“ پر کھڑا ہو۔ ہندیہ میں ہے: يقوم الامام والقوم اذا قال المؤذن حى على الفلاح عند علمائنا الثلثة هو الصحيح کذافی المضمرات )) دخل المسجد والمؤذن يقيم قعدالی قیام الامام في مصلاه (۲) در مختار میں ہے: رد المحتار میں ہے: ويكره له الانتظار قائما ولكن يقعد ثم يقوم اذا قال المؤذن حى على الفلاح (۳) واللہ تعالیٰ اعلم (۴) ایسے لوگ سخت گنہ گار سحق نار ہیں جب تک سچی توبہ نہ کر لیں قطع تعلق ضروری ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۲ / رمضان المبارک ۱۳۹۸ھ