اذان خطبہ خارج مسجد ہونی چاہیے یا اندرون مسجد؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مندرجہ ذیل مسئلے میں کہ: زید کہتا ہے کہ اذان خطبہ خارج مسجد ہونی چاہئے عمر واسکے خلاف کہتا ہے کہ اذان اندرون مسجد ہونی چاہئے ۔ اندرون مسجد اذان خطبہ پہلے سے ہوتی چلی آرہی ہے کیا پہلے علماء نہ تھے جو آج مسئلہ ایجاد ہوا لہذا دریافت طلب امر یہ ہے کہ جواب حوالہ کتب کے ساتھ تحریر فرما کر ممنون و مشکور فرمائیں بینوا توجروا۔ المستفتی: اکبر علی رضوی ، مدرس اہل سنت تعمیر العلوم را مپور
الجواب: زید صحیح کہتا ہے مسجد کے اندر کوئی اذان جائز نہیں فقہا فرماتے ہیں: وو یکره ان يؤذن في المسجد مسجد میں اذان نہ دی جائے مسجد میں اذان مکروہ ہے۔ سنن ابو داؤد شریف کی حدیث میں ہے جو سائب بن یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضور سرور عالم مالی ایام اور عمرین کے زمانہ میں اذان جمعہ دروازہ مسجد پر منبر کے سامنے ہوتی تھی۔ اور اس کا خلاف کسی حدیث میں منقول نہیں تو یہ مسئلہ بحمدہ تعالی سنت سے ثابت اور علماء کے ارشادات سے ہر زمانہ میں ظاہر ۔ عمرو نہ جانے یا جان کر انجان بنے تو کسی کا کیا قصور ہے؟ تفصیل کیلئے اوفی المعۃ فی اذان یوم الجمعہ ملاحظہ ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله