اذان ثانی خارج مسجد منبر کے سامنے ہونا سنت ہے
محترم! سلام مسنون کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: ایک مسجد یہاں ہے اذان ثانی جمعہ اندر ہوتی تھی میں نے مسئلہ بتا یا کچھ دن اذان با ہر ہوئی اسی میں کچھ خبیث ہیں جو کہتے ہیں مسئلہ نیا رائج ہوا ہے۔ باہر اذ ان پکارنے سے منبر بھی سامنے ہی پڑتا ہے یہ لوگ اس میں چہ می گوئیاں کرتے ہیں اس کا کیا حکم ہے؟ المستفتی :محمد صابرعلی ،گونڈہ یوپی
الجواب: وہ لوگ جو اس مسئلہ کو نیا خیال کرتے ہیں غلطی پر ہیں۔ یہ مسئلہ نیا نہیں بلکہ اذان جمعہ منبر کے سامنے خارج مسجد ہونا سنت حضور علیہ السلام وسنت جملہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہے۔ حضرت سائب بن یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث سنن ابوداؤد شریف میں مروی فرماتے ہیں: كان يؤذن بين يدى رسول الله واله ل لل ل لهم اذا جلس على المنبر يوم الجمعة على باب المسجد وابى بكر وعمر ) یعنی حضور ما لا السلام اور شیخین کریمین صدیق و فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے عہد کرامت میں اذان جمعه دروازه مسجد پر منبر کے سامنے ہوتی تھی۔ اسی لئے فقہائے کرام تصریح فرماتے ہیں کہ مسجد کے اندر اذان نہ دی جائے اندرون مسجد اذان مکروہ ہے۔ (1) سنن ابی داؤد، ج ۱، ص ۱۵۵، کتاب الصلوۃ، باب وقت صلوۃ الجمعه ، اصح المطابع عالمگیری میں ہے: "ينبغي ان يؤذن على المئذنة او خارج المسجد ولا يؤذن في المسجد كذافی فتاوی قاضیخاں(۱) مسئلہ شرعیہ کو ماننا اور اس پر عمل لازم اور اسے نیا مسئلہ کہنے سے تو بہ کریں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۶ رصفر المظفر ۱۳۹۸ھ (1) الفتاوى الهندية ، ج ۱، ص ۱۱۲ ، كتاب الصلوة الباب الثاني الفصل الثاني، دار الفکر بيروت