اذان خطبہ مسجد کے باہر ہونی چاہئے اور مسجد کے اندر مکروہ ہے
اذان خطبہ مسجد کے باہر ہی ہونا چاہئے ،مسجد کے اندر مکروہ ہے انا اتفاقی حرام ہے! کیا فرماتے ہیں علمائے دین و شرع متین اس مسئلہ میں کہ: ہمارے یہاں زمانہ قدیم سے جمعہ کے خطبہ کی اذان مسجد کے اندر امام صاحب کے سامنے دی جاتی تھی اب ایک امام صاحب قریب دو چار ماہ سے آئے ہیں وہ مسجد کے باہر خطبہ کی اذان دلواتے ہیں اسکے او پر کچھ لوگوں کا اعتراض ہے اسلئے گزارش ہے صحیح مسئلہ سے حدیث کے حوالہ کے ساتھ جواب سے آگاہ کیا جائے کیونکہ اسے لے کر کچھ نا اتفاقی بڑھنے والی ہے عین نوازش ہوگی ۔ فقط المستفتی : محمد روزه مستان ساکن و پوسٹ راجہ پرسونی ضلع سیتا مڑھی بہار
الجواب: امام مذکور کا عمل صحیح ہے اور وہ اس نیک عمل کے بموجب مستحق اجر و ثواب ہیں جولوگ ان کی بات کو نہیں مانتے شریعت مطہرہ کے نزدیک گناہ گار مستحق عذاب نار ہیں بلا شبہ حدیث رسول اللہ صلی یہ تم و تصریحات جملہ فقہائے کرام کی رو سے کوئی اذان مسجد کے اندر جائز نہیں۔ (1) سنن ابی داؤد، ج ۱، ص ۱۵۵، کتاب الصلوۃ، باب صلوة الجمعه ، مطبع اصح المطابع تمام فقہا ء فرماتے ہیں: لا يؤذن في المسجد () اسکے خلاف ایک آدھ عبارت بھی فقہا کی کوئی نہیں دکھا سکتا۔ حدیث میں ہے: عن السائب بن یزید رضی الله تعالى عنه قال انه كان يؤذن بين يدى رسول الله العليم اذا جلس على المنبريوم الجمعة على باب المسجد وابی بکر و عمر (۲) یعنی حضور سرکار دو عالم صلی یہ تن ، ابوبکر اور عمر کے زمانے میں جمعہ کے دن اذان دروازہ مسجد پر خطیب کے سامنے ہوتی تھی یہ حدیث ابوداؤد میں مروی ہے جس سے ظاہر ہے کہ خاص اذان جمعہ کا باہر کرانا سنت رسول اور سنت صحابہ سے ہے اور یہ کہیں منقول نہیں ہے کہ حضور صلی ا لی ہم نے کبھی بھی جواز کیلئے اندر اذان کہلائی ہو اور جس سنت پر حضور نے بلا ترک مواظبت فرمائی وہ واجب ٹھہرے گی کما صرح فی الفتح۔ بلا بالجملہ امام مذکور کا اس بات میں قول و فعل واجب الاتباع ہے نا اتفاقی حرام ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله