جمعہ کے خطبہ کی اذان کی جگہ اور خطیب کے سامنے ہونے کا شرعی حکم
جمعہ کے خطبہ کی اذان کہاں سے دی جائے مسجد کے اندر یا باہر؟ اگر منبر کے بالکل سامنے دیوار ہو کہ خطیب کے ٹھیک سامنے سے باہر ہونے پر خطیب نظر نہیں آتا مگر مؤذن کے ذرا سے دائیں یا بائیں ہٹ جانے سے خطیب نظر آ جاتا ہے اس طرح پر اذان پڑھ سکتے ہیں یا نہیں یا کہ خطیب کی ناک کے سامنے مؤذن کی ناک ہونا شرط ہے۔ یہ اذان اندر ہونا کب سے رائج ہوگئی ۔ اگر کوئی مفتی یہ کہے کہ میں اس لئے نہیں کراتا کہ فساد ہونے کا ڈر ہے یہ کہنا اس کا کیسا ہے؟ جواب مع حوالہ و مدلل عنایت ہو۔
الجواب: مسجد میں کوئی اذان دینا جائز نہیں طحطاوی علی المراقی میں ہے: یکره ان يؤذن فى المسجد كما في القهستاني عن النظم (1) یعنی نظم سے قہسانی میں ہے کہ مسجد میں اذان مکروہ ہے۔ فتح القدیر میں خاص جمعہ کے متعلق ہے: هو ذكر الله في المسجد أى فى حدوده لكراهة الاذان في داخله (۲) جمعہ کا خطبہ مثل اذان ذکر الہی ہے مسجد میں یعنی حدود مسجد میں ، اسلئے کہ مسجد میں اذان مکروہ ہے، جمعہ کی اذان خطیب کے سامنے ہونا مسنون ہے۔ حدیث میں ہے: عن السائب بن یزید رضی الله تعالى عنه قال كان يؤذن بين يدى رسول الله اذا جلس على المنبر يوم الجمعة على باب المسجد وابی بکر و عمر (۳) بلا عذر یہ سنت نہ چھوڑی جائے گی ہاں جبکہ ٹھیک سامنے ہونا دشوار ہے تو داہنے یا با کمیں ہٹ کر امام کے سامنے ہو کر اذان دی جاسکتی ہے۔ یا دیوار میں روشن دان کھول لیں۔ اللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں قادری از هری غفرله