قرآن کی غلط قرأت اور داڑھی منڈے شخص کی اذان کا شرعی حکم
کیا " قل ھو اللہ احد ن اللہ الصمد" اور ایاک نستعین اخدنا الصراط المستقیم پڑھنا جائز ہے؟ داڑھی منڈے کی اذان درست ہے یا نہیں؟ حضرت قبلہ ازہری میاں صاحب! سلام مسنون گزارش یہ ہے کہ ایک شخص جو اس بات کا معترض ہے جبکہ وہ داڑھی منڈوا تا ہے۔ کہ تم نماز غلط
پڑھاتے ہو وہ یہ کہ سورہ اخلاص ( قل هو الله احدن الله الصمد اور اسی سورہ کے آخر میں کفوا احدن الله اکبر ) غلط پڑھتے ہو ۔ لہذا تم نماز غلط پڑھاتے ہو اور سورہ فاتحہ میں بھی ایاک نستعین اهدنا الصراط المستقیم میں نهدنا الصراط المستقیم پڑھتے ہو یہ غلط ہے۔ میں نے اس کو فوائد مکیہ کتاب دکھائی کہ یہ قرآت کا قاعدہ وصل کے اعتبار سے ہے تو اس نے انکار کر دیا کہ میں نے اتنے شہر گھومے اور اتنی دنیا دیکھی لیکن تمہارے جیسے کسی انسان کو ایسی قرآت کرتے نہیں دیکھا تو میں نے کہا کہ تم ہمارے پیچھے نماز پڑھو یا نہ پڑھو میں اسی قاعدہ سے پڑھوں گا اور تمہارے جیسے کمبخت انسان کے کہنے سے قرآت کا قاعدہ نہیں بدلوں گا۔ اور وہ شخص داڑھی منڈا تا ہے جو اس بات کا معترض ہے اور داڑھی نہ رکھنے والے کی اذان صحیح ہوگی یا نہیں اور اسکی شہادت اور بات کا یقین رکھا جائے یا نہیں؟ یہاں اس بات کا بہت جھگڑا چل رہا ہے مہربانی کر کے تحریر فرمائیں۔ الجواب: اسکا اعتراض غلط و بے ہودہ ہے تو بہ کرے اور اسکی اذان مکروہ اور بقول صاحب تنویر الابصار غیر صحیح اور شہادت اسکی مردود اور دیانات میں اسکی خبر نا معتبر کہ داڑھی منڈا فاسق معلن ہے۔ لیکن عوام الناس کے بیچ ایسی قرآت سے احتراز چاہیئے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله