تثویب کی ابتدا، شرعی حیثیت اور استنجا کے متعلق چند مسائل
تثویب کی ابتدا کب سے ہوئی؟ تثویب کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ ڈھیلے سے استنجا کیا اور پانی استعمال کرنا بھول گیا اور اسی حالت میں نماز پڑھی تو نماز ہوئی یا نہیں؟ کیا فرماتے ہیں علماء کرام مسائل ذیل میں کہ: (1) یہ الصلاۃ والسلام علیک یا رسول اللہ کس وقت شروع ہوئی کہاں ہے تحریر کیجئے۔ (۲) جماعت سے پہلے جو صلاۃ پکاری جاتی ہے یہ صلاۃ کس وقت کہاں سے شروع ہوئی ہے صلاۃ پکارنا سنت ہے یا فرض ہے؟ (۳) استنجا ڈھیلے سے کیا اور بھول کر پانی سے استنجا پاک کرنے کی یاد نہیں رہی اور نماز پڑھ لی یا نماز پڑھائی امامت کی تو ایسی صورت میں کیا نماز ہو جائے گی یا نہیں؟ مستفتی: حاجی محمد شفیع خاں محلہ نظر پور قصبہ تمہر شاہجہانپور
الجواب: (1) اسے فقہ میں تثویب کہتے ہیں۔ اس کی ابتدار بیع الآخر ا ۷۸ ھ میں ہوئی۔ در مختار میں ہے : التسليم بعد الاذان حدث في ربيع الآخر سنة سبع مائة واحدى و ثمانين في عشاء ليلة الاثنين (1) پھر دس برس بعد سب نمازوں میں رائج ہوئی اور وہ بدعت حسنہ ہے ۔ والمولیٰ تعالیٰ اعلم (۲) اوپر گزرا کہ صلاۃ کا پکا ر نا بدعت حسنہ ہے یعنی بہتر ہے کہ اس میں لوگوں کو نماز کیلئے بلانا ہے اور (1) الدر المختار، ج ۲، ص۵۷ کتاب الصلوۃ، باب الاذان، دار الكتب العلميه بيروت یہ خیر محض ہے اور ثواب کا کام ہے۔ والمولیٰ تعالیٰ اعلم (۳) اگر پیشاب مخرج سے بقدر ایک روپے بھر آس پاس پھیلا نہیں تھا تو نماز ہوگئی اور پیشاب روپے بھر سے زیادہ جگہ میں پھیل گیا تھا یا روپے بھر پھیلا تھا تو دوبارہ وضو کر کے نماز پڑھیں اور اس سے کم پھیلا تھا تو بہتر ہے کہ دوبارہ پڑھیں ۔ والمولیٰ تعالیٰ اعلم