اقامت کے دوران حی علی الفلاح پر کھڑے ہونے کا حکم
کہنے والوں پر شرعا کیا حکم ہے؟ ۔ بینوا تو جروا
المستفتی : عزیز الرحمن خاں، غلام محی الدین قادری رضوی ،محلہ با بوجی پورہ ٹاؤن ضلع جلگاؤں الجواب: (1) مستحب ہے۔ در مختار میں اسے آداب کی گنتی میں شمار کیا اور مستحب وہ ہے جس کا کرنا اولیٰ و موجب اجر ہو، اور ترک خلاف اولیٰ ہونے کا مطلب شاید عقاب نہ ہو۔ اور شروع اقامت میں کھڑا ہونا مکروہ ہے کہ حی علی الفلاح یا حی علی الصلاۃ یا قد قامت الصلوۃ تک بیٹھے رہنا مسنون ہے اور ہمارے ائمہ ثلثہ کے نزدیک بہتر یہی ہے کہ حی علی الفلاح پر کھڑے ہوں ۔ ہندیہ میں ہے : يقوم الامام والقوم اذاقال المؤذن حى على الفلاح عند علمائنا الثلثة هو الصحيح كذافي المضرات () ہمارے علمائے اعلام فرماتے ہیں کہ اگر اقامت کے وقت کوئی داخل ہو تو اسے ختم تک کھڑا رہنا مکروہ ہے بلکہ بیٹھ جائے اور حی علی الفلاح پر کھڑا ہو ۔ در مختار ورد المحتار میں ہے: ” دخل المسجد والمؤذن یقیم قعد الی قیام الامام في مصلاه ويكره له الانتظار قائما ولكن يقعد ثم يقوم اذا بلغ المؤذن حی علی الفلاح (۲) یہاں سے ظاہر کہ مکروہ شروع اقامت سے کھڑا ہونا ہے اور حی علی الفلاح پر کھڑا نہ ہونا خلاف اولیٰ ہے اور مستحب خواہ کسی حکم شرعی کو ہلکا جاننا کفر ہے: “ من اهان الشريعة او المسائل التي لابد منها كفر (۳) اور خلاف مستحب کی ترویج منع خیر ہے جو وہابیہ کا داب ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) اسمعیل دہلوی کی تصنیف ہے اور رائے بریلوی کے ملفوظات ہونا ممکن نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم
(1) الفتاوى الهندية، ج ۱، ص ۱۱۴ ، كتاب الصلوة ، الفصل الثانى فى كلمات الاذان والاقامة وكيفيتها دار الفکر بيروت (۲) الدر المختار مع رد المحتار، ج ۲، ص ، کتاب الصلوۃ، باب الاذان، دار الكتب العلميه بيروت (۳) شرح فقہ اکبر، ص۲۱۵ ، فصل فی العلم والعلماء مكتبه تهانوی (۳) حرام حرام حرام بد کام بد انجام بلکہ کفر ہے جس سے تو بہ وتجدید ایمان لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم اور یہی حکم مسئلہ شرعی کو شرارت وفتنہ وفساد کہنے کا ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۵ شعبان ۱۳۹۹ھ