نماز فجر اور عصر کے مستحب اوقات اور فجر میں نوافل کی ممانعت کا بیان
علمائے کرام کیا فرماتے ہیں : (۱) نماز فجر سورج نکلنے سے کتنے پہلے پڑھنا چاہئے ؟ مستحب وقت کونسا ہے؟ (۲) وقت فجر سنت فجر پڑھ کر فرض نماز پڑھنے سے پہلے یا وقت صبح صادق سنت فجر پڑھنے سے پہلے نوافل پڑھ سکتے ہیں۔ (۳) نماز عصر وقت آخر میں پڑھنا کیا مستحب ہے؟ اگر اخیر وقت میں پڑھنا مستحب ہے تو کتنا وقت اخیر کا ہونا چاہئے؟ یعنی نماز مغرب سے کتنا پہلے نماز عصر پڑھنا چاہئے ؟ اور وقت تاخیر کی کیا وجہ ہے؟ المستفتی : عبدالمجید ، امام مسجد چھپیان پیلی بھیت
الجواب: (1) فجر اس وقت پڑھنا مستحب ہے جب روشنی پھیل جائے مگر اتنی تاخیر نہ کرے کہ طلوع آفتاب کا گمان ہو بلکہ اتنی گنجائش وقت میں ہونا چاہئے کہ اگر نماز میں فساد ظاہر ہو تو اعادہ قراءت مستحہ کے ساتھ ممکن ہو۔ ہندیہ میں ہے: وو يستحب تاخير الفجر ولا يؤخرها بحيث يقع الشك في طلوع الشمس بل يسفر بها بحيث لو ظهر فساد صلاته يمكنه ان يعيدها فى الوقت بقرأة مستحبة كذافى التبيين ،، (1) (۲) نہیں کہ اس وقت سنت مؤکدہ کے علاوہ کوئی نفل نماز پڑھنا ممنوع ہے۔ اسی ہندیہ میں ہے: تسعة اوقات يكره فيها النوافل وما فى معنا هالا الفرائض منها ما بعد طلوع الفجر قبل صلاة الفجر كذافى النهاية والكفاية يكره فيه التطوع باكثر من سنة الفجر و منها ما بعد صلاة الفجر قبل طلوع الشمس هكذا فى النهاية والكفاية (1) (۳) اتنی تاخیر جائز نہیں کہ سورج کی ٹکیہ اتنی ماند پڑ جائے کہ اس میں نظر خیرہ نہ ہو اس وقت سے پہلے پڑھ لینا چاہئے ۔ اسی ہندیہ میں ہے: وو ويستحب تاخير العصر في كل زمان مالم تتغير الشمس والعبرة لتغير القرص لا لتغير الضوء فمتى صار القرص بحيث لا تحار فيه العين فقد تغيرت والا لاکذافی الکافی (۲) اور بادل کے ایام میں جلدی کرنا چاہئے تا کہ نماز وقت مکروہ میں نہ ہو۔ اسی میں ہے: ”وفی يوم الغيم، ويعجل العصر خوفاً من ان يقع فى الوقت المكروه ملخصاً (۳) اور تاخیر عصر میں حکمت یہ ہے کہ نوافل کیلئے وقت نماز عصر سے پہلے زیادہ ملے تبیین میں ہے: ولان في التاخير توسعة لوقت النوافل فيكون فيه تكثيرها فيندب (۴) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۵ رذی الحجہ ۱۴۰۴ھ (1) الفتاوى الهندية، ج ۱، ص ١٠٩ ، كتاب الصلوة الفصل الثالث في بيان الاوقات ، دار الفکر بيروت (۲) الفتاوى الهندية ، ج ۱، ص ۱۰۸ ، كتاب الصلوة الفصل الثاني في بيان فضيلة الاوقات ، دار الفکر بيروت (۳) الفتاوى الهندية ج ا ، كتاب الصلوة الفصل الثاني في بيان فضيلة الاوقاة، ص ۱۰۸ ، دار الفكر بيروت (۴) تبيين الحقائق، ج ۱، ص ۲۲۴، کتاب الصلوة، دار الكتب العلميه بيروت