وقت تنگ نہ ہو تو امام سنت پڑھ کر امامت کرے!
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: جناب مفتی صاحب السلام علیکم عرض حال یہ ہے کہ امام وقت پر مسجد میں نہیں آیا اور دس منٹ ہو گئے اور مقتدی سنت پڑھ کر بیٹھ گئے اب وہ شخص آتا ہے اور وضو کرتا ہے اب یہ آنے والا شخص بغیر سنت مؤکدہ ادا کئے ہوئے فرض پڑھا سکتا ہے یا نہیں جب کہ ظہر کا وقت موجود ہے۔ کوٹہ میں ۵ بجکر ۲ منٹ پر عصر کا وقت شروع ہوتا ہے ایسی حالت میں بغیر سنت ادا کئے ہوئے نماز کیسی ہوئی۔ المستفتی :عبدالقادر،کوٹ راجستھان
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
سنت مؤکدہ پہلے پڑھ لینا چاہئے جبکہ وقت تنگ نہ تھا۔ نماز ہوگئی ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ القوی ۲۶ / رمضان ۱۳۹۸ھ صبح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۳ · صفحہ ۴۶–۴۷
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
نماز فجر اور عصر کے مستحب اوقات اور فجر میں نوافل کی ممانعت کا بیان
باب: کتاب الصلوٰۃ
ان ممالک میں نمازوں کی ادائیگی جہاں عصر اور عشاء کا وقت نہیں آتا
باب: کتاب الصلوٰۃ
بوقت زوال فرض و نفل پڑھنا جائز نہیں !
باب: کتاب الصلوٰۃ
اقامت کے دوران حی علی الفلاح پر کھڑے ہونے کا حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ
امام اعظم رحمہ اللہ کے نزدیک عشاء کا وقت شفق ابیض کے غروب کے بعد ہے! قول امام سے بے ضرورت عدول جائز نہیں ! کفر کا فتویٰ کب دیا جائے گا؟
باب: کتاب الصلوٰۃ