ان ممالک میں نمازوں کی ادائیگی جہاں عصر اور عشاء کا وقت نہیں آتا
بعض ملکوں میں جہاں عصر وعشاء کا وقت نہ آتا ہو، کس وقت نماز ادا کریں؟ کیا فرماتے ہیں عالم محققین و مفتیان شرع متین اللہ اکرامہ الطاف مع المسلمین مندرجہ ذیل مسائل میں کہ: (1) یورپ کے بعض ملکوں میں موسم سرما کی مخصوص تاریخوں کے اندر نماز عصر کا وقت داخل ہی نہیں
در مختار میں ہے: دو و فاقدوقتهما مكلف بهما فيقدر لهمابه افتى البرهان الكبير واختاره الكمال ،، وتبعه ابن الشحنه في الغازه فصححه “ (۱) اور نیت قضا کی کریں۔ ردالمحتار میں ہے: اذا علمت ذلك ظهر لك ان من قال بالوجوب يقول به على سبيل القضاء لا الاداء (۲) اسی میں ہے: والذي يظهر من عبارة الفيض ان المرادانه يجب قضاء العشاء (۳) واللہ تعالیٰ اعلم اور اسی مسئلہ میں علماء کا اختلاف درباره فرضیت و عدم فرضیت ہے اور جو ہم نے ذکر کیا وہ قول معتمد و مختار ہے اور اسکی تائید احادیث اسراء و معراج سے ہوئی جن میں وارد ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے پانچ نماز میں فرض فرما ئیں پھر یہی حکم سب کیلئے شریعت عامہ ٹھہرا اور کسی ملک والوں کیلئے کوئی تفریق ارشاد نہ ہوئی اور بالخصوص اس حدیث سے اس قول کی تائید ہوتی ہے جس میں دجال کا ذکر ہے کہ سرکار نے نمازوں کے اوقات کو اندازہ سے مقررفرمانے کا حکم دیا ہے۔ فتح القدیر میں ہے: وانتفاء الدليل على شئ لا يستلزم انتفاء لجواز دليل آخر وقد وجدوهو ما تواطأت اخبار الاسراء من فرض الله تعالى الصلوة خمسا بعد ما امروا اولا بخمسين ثم استقر الامر على الخمسين شرعا عاما لاهل الآفاق لا تفصيل فيه بين اهل قطر و قطر "وماروى ذكر الدجال رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم : قلناما لبثه فى الارض؟ قال: اربعون يومايوم كسنة ويوم كشهر ويوم كجمعة وسائر أيامه كأيامكم فقيل يا رسول الله فذالك اليوم الذي كسنة أيكفينا صلوة يوم؟ قال: لا اقدرواله. رواه مسلم فقد أوجب اكثر من ثلاث مأة عصر قبل صيرورة الظل مثلا او مثلین، وقس علیہ “ (۴) واللہ تعالیٰ اعلم (۲) قول امام قدس سرہ ہی اصح واحوط ہے اور من حیث الدلیل اقوی ہے اور یہی مذہب صدیق و دیگر اجلہ صحابہ وی نہم کا ہے اس سے عدول بے ضرورت داعیہ و بے مصلحت ضروری دینی و تعامل و بے خوف فساد جائز نہیں بلکہ ای پر فتوی اور اسی پر عمل لازم ہے اگر چہ مشائخ نے قول صاحبین پر فتویٰ دیا ہو۔ ردالمحتار میں ہے: قال فى الاختيار الشفق البياض وهو مذهب الصديق و معاذ بن جبل و عائشة رضی الله تعالی عنهم قلت و رواه عبد الرزاق عن ابى هريرة وعن عمر بن عبد العزيز ولم يرو البيهقى الشفق الاحمر الاعن ابن عمر و تمامه فيه و اذا تعارضت الاخبار والآثار فلا يخرج وقت المغرب بالشك كما فى الهداية وغيرها قال العلامة قاسم فثبت ان قول الامام هو الاصح الى قوله قولهما اوسع وقوله احوط)ملخصاً اسی میں ہے: لا يعدل عن قول الامام الالضرورة من ضعف دليل او تعامل بخلافه كالمزارعة وان صرح المشائخ بأن الفتوى على قولهما كما هنا۔ لہذا مقتضائے احتیاط یہی ہے کہ قول امام پر عمل کریں اور وقت مقدر ما نیں ورنہ امام کے مذہب پر نماز عشاء ادا ہی نہ ہوگی اور فرض ذمہ میں رہے گا تو صاحبین کے قول پر عمل کرنے کی صورت میں فرض عشاء سے عہدہ برآ ہونے کا یقین نہیں ہوتا ہے بلکہ خلاف امام اعظم کی وجہ سے شک قائم ہے اور امام اعظم کے مذہب پر عمل کرنے کی صورت میں فرض عشاء سے عہدہ برآ ہونے کا یقین حاصل ہے لہذا اگر اس پر عمل میں لوگوں کو حرج نہ ہو اور فساد و فتنہ مظنون نہ ہو تو اسی پر عمل ضرور ورنہ بصورت دیگر صاحبین کے قول پر عمل کی اجازت ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) اس جگہ بھی وقت کا اندازہ کر لینا چاہئے اور سحری ان دنوں میں نہ کریں تو حرج نہیں یا پہلے کرلیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) اس کا حکم گزشتہ سے ظاہر ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۷/ جمادی الاخره ۱۴۰۶ھ