بوقت زوال فرض و نفل پڑھنا جائز نہیں !
سوال
جناب مفتی صاحب قبلہ ! السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ: جمعہ کے دن وقت زوال اذان دینا یا نماز تحیۃ المسجد یا نماز تحیۃ الوضو یا اور کوئی نفل نماز پڑھنا کیسا
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: عوام جسے زوال کہتے ہیں اس وقت ظہر خواہ جمعہ کا وقت اصلاً نہیں ہوتا اس وقت میں کوئی فرض و نفل پڑھنا جائز نہیں واللہ تعالیٰ اعلم المستفتی : متولی جامع مسجد ، ہیلپور ضلع باسن، کرناٹک فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله شب ۱۶ جمادی الآخره ۱۴۰۴ھ
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۳ · صفحہ ۴۳–۴۴
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
امام اعظم رحمہ اللہ کے نزدیک عشاء کا وقت شفق ابیض کے غروب کے بعد ہے! قول امام سے بے ضرورت عدول جائز نہیں ! کفر کا فتویٰ کب دیا جائے گا؟
باب: کتاب الصلوٰۃ
نماز فجر اور عصر کے مستحب اوقات اور فجر میں نوافل کی ممانعت کا بیان
باب: کتاب الصلوٰۃ
حنفیوں کے لئے عصر کا وقت اور شافعی امام کے پیچھے عصر کی نماز کا حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ
وقت تنگ نہ ہو تو امام سنت پڑھ کر امامت کرے!
باب: کتاب الصلوٰۃ
جاڑے کے موسم میں مغرب و عشاء کے درمیان کتنا وقت رہتا ہے؟
باب: کتاب الصلوٰۃ