جاڑے کے موسم میں مغرب و عشاء کے درمیان کتنا وقت رہتا ہے؟
جاڑے کے موسم میں مغرب و عشاء کے درمیان کتنا وقت رہتا ہے؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: اذان عشاء مغرب کے بعد موسم سرما یعنی جاڑے میں ایک گھنٹہ ۳۰ منٹ بعد کہی جائے اور موسم گرما میں ایک گھنٹہ ۴۰ منٹ بعد کہی جائے یا نہیں اور ناگور کے مسائل رمضان المبارک میں ایساہی تحریر ہے قرآن حکیم و احادیث صحیحہ کی روشنی میں مطلع فرمائیں ۔ جاڑوں میں وگرمیوں میں کون سے مہینوں کی تاکید آئی ہے کیونکہ عوام خاص طور سے ماہ رمضان میں نماز عشا جلدی کرانا چاہتے ہیں جبکہ تاخیر مستحب ہے جب عوام سے کہا جاتا ہے تو جواب ملتا ہے کہ ہم کام کرتے ہیں ۔ ہم تھک جاتے ہیں ہمارے آرام میں کمی ہوتی ہے۔ المستفتی : قاضی مولا ناشیخ محمد انیس صدیقی رضوی اجمیری پیش امام خطیب جامع مسجد تیلی پوره مقام و پوسٹ گلاب پورہ پھلواڑہ راجستھان
الجواب: مغرب کا وقت ان بلاد میں کم از کم ایک گھنٹہ اٹھارہ منٹ اور زیادہ سے زیادہ ایک گھنٹہ پینتیس منٹ تک رہتا ہے۔ ہر ماہ کا وقت صیح و معتمد تقویم دیکھ کر معلوم کر لیں واللہ تعالیٰ اعلم ۔ اور ایسی صورت میں جو تحریر ہوئی تحمیل مشاہی انسب ہے۔ واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۹ رصفر المظفر ۱۴۰۴ھ