جماعت ملنے کا یقین ہو تو سنت فجر ادا کرے!
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: فجر کی نماز سنت کا مسئلہ لوگوں کے ذہن میں الجھا ہوا ہے اکثر لوگ فجر کی سنت ادا کرنے میں فرض کو چھوڑ دیتے ہیں ایک رکعت فرض یا دوسری رکعت کے جلسہ میں شریک ہوتے ہیں کچھ لوگ تو سنت ادا کرنے میں فرض کو غائب ہی کر دیتے ہیں ایسے لوگوں کا خیال ہے کہ فرض ادا کرنے کے بعد سنت کو بعد میں ادا کرنا اسی وقت مناسب ہے جبکہ سورج نکل آئے۔ فرض کی رکعت کو چھوڑ کر جبکہ جماعت کھڑی ہو چکی ہو اور فرض کی رکعت چھوٹنے کا بھی اندیشہ ہو ایسی حالت میں فجر کی سنت پڑھنا مناسب ہے یا پھر فرض کو پڑھنے کے بعد سنت ادا کر سکتا ہے؟ دریافت طلب امر یہ ہے کہ اگر فرض کے بعد ہی پڑھنا ضروری ہے تو کب پڑھے؟
الجواب: فجر کی جماعت کھڑی ہو گئی اور یہ جانتا ہے کہ سنت پڑھ کر جماعت میں شریک ہو جائے گا اگر چہ التحیات ہی میں ہی تو حکم یہ ہے کہ سنت پڑھ لے اور نہ جماعت میں شریک ہو جائے۔ اگر سنت پڑھنا چاہے تو بعد بلندی آفتاب ( یعنی طلوع آفتاب سے ۲۰ منٹ بعد ) پڑھے قبل طلوع پڑھنا جائز نہیں جو لوگ یہ جانتے ہوئے سنت پڑھتے ہیں کہ فرض میں شریک نہیں ہوسکیں گے اور فرض چھوڑ دیتے ہیں وہ ترک جماعت سے گنہگار ہیں بلکہ جب یہ اندیشہ ہو تو سنت چھوڑ کر جماعت میں شریک ہو جائیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله