امام اعظم رحمہ اللہ کے نزدیک عشاء کا وقت شفق ابیض کے غروب کے بعد ہے! قول امام سے بے ضرورت عدول جائز نہیں ! کفر کا فتویٰ کب دیا جائے گا؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: ہالینڈ میں چند راتوں کے اندر شفق ابیض کے غائب نہ ہونے کی وجہ سے عشا کی فرضیت و عدم فرضیت کے متعلق علما کے درمیان اختلاف ہوا ۔ بعض علما نے عشا تک قضا پڑھنے کا حکم دیا اور بعض علمانے قول مختار و مفتی بہ سے صرف نظر کر کے مدعی حنفیت ہونے کے باوجود شفق احمر کے بعد ہی فرضیت عشا کا قول کیا جسکی تحریری تائید بہت ہے۔ بعض لوگوں نے یہاں تک لکھا کہ فرضیت عشا کا قول مسلک حق اہل سنت کے بالکل مطابق ہے فقیر اس کی پر زور تائید کرتا ہے کہ یورپ میں ان راتوں میں سرخی کے غائب ہونے پر نماز عشا فرض ہو جاتی ہے اور اسکی فرضیت کا منکر حد شرع کو توڑنے والا اور منکر نماز کہلائے گا جواب طلب امر یہ ہے کہ اس طرح تائید کرنے سے امام اعظم علیہ الرحمہ کی عظمت تو مجروح نہیں ہوتی ہے اس تائید کے سبب مزید پر کوئی اہم حکم شرع تو نہیں ہوتا ہے۔ اگر معاملہ تو بہ وغیرہ تک پہونچ جائے تو عدم تو بہ کی صورت میں مؤید کے ہاتھوں پر بیعت کرنا یا اسکو اپنا پیشوا اور عالم دین مانا کہاں تک درست ہے؟
الجواب: فی الواقع ہمارے امام اعظم حمام اقدم سراج الائمہ امام الائمہ ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مذہب یہ ہے کہ عشا کا وقت شفق ابیض کے غروب کے بعد شروع ہوتا ہے اور یہی مذہب اجلہ صحابہ کر ام مثل صدیق وابو ہریرہ وعائشہ صدیقہ اور تابعی جلیل عمر بن عبد العزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا ہے کہ غالبا عامتہ الصحابہ کا یہی مذہب ہے اور شفق احمد کی روایت کو ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سوا کسی نے روایت نہ کیا اور اس قول سے امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا رجوع ثابت نہیں اور قول امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی احوط ہے تو وہی من حیث الدلیل اقوی ہے جس سے عدول جائز نہیں۔ رد المحتار میں فرمایا: قوله ( واليه رجع الامام أى الى قولهما الذى هورواية عنه ايضأو صرح في المجمع بان عليه الفتوى ورده المحقق في الفتح بانه لا يساعده رواية ولا دراية الخ وقال تلميذه العلامة قاسم فى تصحيح القدورى ان رجوعه لم يثبت لما نقله الكافة من لدن الائمة الثلاثة الى اليوم من حكاية القولين و دعوى عمل عامة الصحابة بخلافه خلاف المنقول قال في الاختيار الشفق البياض وهو مذهب الصدیق ومعاذ ابن جبل وعائشة رضى الله عنهم قلت ورواه عبدالرزاق عن ابى هريرة و عن عمر بن عبدالعزيز ولم ير والبيهقى الشفق الاحمر الاعن ابن عمر و تمامه فيه اذا تعارضت الاخبار والآثار فلا يخرج وقت المغرب بالشک کما فی الهداية وغيرها قال العلامة قاسم فثبت ان قول الامام هو الاصح و مشى عليه فى البحر مؤيداله بما قدمناه عنه من انه لا يعدل عن قول الامام الا لضرورة من ضعف دلیل او تعامل بخلافه كالمزارعة وفى السراج قولهما اوسع وقوله احوط والله اعلم اھ‘ ملخصاً) اور جب قول امام سے بے ضرورت عدول جائز نہیں اور ضرورت مفقود اور یہ عذر کہ نماز کو قضا سے بچانا ہے ضرورت شرعیہ نہیں جس کے سبب امام اعظم کے مذہب مہذب سے عدول جائز ہو حالانکہ وہی من حیث الدلیل اقوئی ہے اس لئے وہی احوط ہے جیسا کہ ابھی تصریح رد المحتار سے گزری اور اس سے عدول میں مقتضائے احتیاط کا خلاف لازم آتا ہے اور وقت سے پہلے نماز عشا پڑھ لینے کا شبہ قویہ موجود ہے جس سے بچنے کی ضرورت ہے تو ثابت ہوا کہ ضرورت بھی امام اعظم کے قول پر عمل کی طرف داعی ہے اس کے برخلاف فتوی محل نظر ہے اور اسکی تائید وہ بھی اس طور پر کہ یہ قول مسلک حقہ اہلسنت کے بالکل مطابق ہے مبالغہ سے خالی نہیں اور دوسرے قول کی سنیت پر تعریض بھی اس سے ظاہر ہے کہ وہ معاذ اللہ مسلک اہل سنت کے مطابق نہیں حالانکہ وہ قول امام ہے اور اس قول مخالف پر فرضیت عشا قطعی ماننا کہ بقول مؤید اسکی فرضیت کا منکر حد شرع کو توڑنے والا اور منکر نماز کہلائے گا، بہت سخت ہے کہ خلافیات میں نوبت اتکفیر مسلم پہنچاتا ہے اور تکفیر مسلم کا ہرگز یہاں کوئی محل نہیں نہ اس کا یہاں کوئی ادنی شبہ موجود ہے تو یہ تخت جرات ہے اور امام اعظم علیہ الرحمہ والرضوان تک یہ جسارت و بیبا کی پہنچی علماء کرام احتیاط فرما ئیں کہ قائل کے کلام میں جس کے ظاہری معنی کفری ہوں مگر اس میں کوئی پہلو وہ بھی ہو جو کفر نہ ہو تو وہ اس کے کفر کا فتویٰ نہ دیں بلکہ منع فرمائیں۔ در مختار میں ہے: اذا كان فى المسئلة وجوه توجب الكفر و واحد يمنعه فعلى المفتى الميل لما يمنعه (1) رد المحتار میں ہے: لا یفتی بكفر مسلم امکن حمل كلامه على محمل حسن او كان في كفره خلاف ولو كان ذالك رواية ضعيفة (٢) جوش تائید میں موید صاحب کا یہ حال کہ ایک مسئلہ خلافیہ میں جس میں کفر کا ادنی شبہ بھی نہیں بر مسلم پر جرات اور امام اعظم کا بھی خیال نہ فرمائیں ۔ مؤید پر اس سے تو بہ لازم ہے۔ ھوالھا دی وھو تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله