مؤذن کے اقامت کہنے کی جگہ اور امام کے دعا کے رخ کا بیان
اقامت مؤذن کہاں سے پڑھے؟ امام کے دائیں یا بائیں یا پیچھے سے؟ امام داہنی جانب کی بجائے بائیں جانب یا خانہ کعبہ کی جانب دعا مانگ لے تو اس میں کوئی حرج ہے یا نہیں؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ (1) اگر امام کے پیچھے یا بائیں طرف کھڑے ہو کرا قامت پڑھی جائے تو اقامت ہوگی یا نہیں زید کا کہنا کہ دائیں طرف سے اقامت ہوگی پیچھے اور بائیں سے اقامت کے بارے میں اعلیحضرت نے فرمایا صحیح
الجواب: اعلیحضرت علیہ الرحمہ نے صرف اس قدر فرمایا کہ ہاں اس قدر کہہ سکتے ہیں کہ محاذات امام پھر جانب راست مناسب ہے جس کا حاصل اتنا ہے کہ اقامت ٹھیک امام کے پیچھے ہونا چاہئے پھر دائیں جانب اولیٰ ہے زید صرف دائیں پر مصر ہے اور یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اگر داہنی طرف نہ ہوئی تو اقامت ہی نہ ہوئی جو سراسر افترا ہے، غلط مسئلہ بتانا حرام ہے اور لعنت کا کام ہے۔ حدیث میں ہے: وو من افتی بغیر علم لعنته ملائكة السماء والارض () بے علم جو فتوی دے اسے زمین و آسمان کے فرشتے لعنت کریں۔ تو بہ کرے ورنہ اسکی اذان و اقامت مکروہ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) انحراف چاہیئے ۔ داہنی طرف افضل ہے، بائیں طرف بھی جائز ہے، قبلہ رو بیٹھے رہنا مکروہ ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله