مسجد کے اندر اذان دینا کیسا ہے؟ مسجد کا دروازہ خارج مسجد ہے یا داخل مسجد ؟
سوال
جمعہ کی اذان ثانی اندرون مسجد دینا کیسا ہے ؟ اور جس مسجد میں خارج مسجد جگہ نہ ہو تو کہاں اذان کہی جائے اور جہاں بہت دنوں سے ہوتا چلا آرہا ہے وہاں کیا کریں اور زید کا کہنا ہے کہ اندرون مسجد ہوگی۔
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
اندرون مسجد اذان دینا مکروہ تحریمی ہے خارج مسجد اذان کہی جائے اور ایسی صورت بہت نادر ہے که خارج مسجد حصہ نہ ہو کم از کم دروازہ تو ضرور ہے دروازہ خارج مسجد ہے جہاں پہلے سے اندر ہوتی آئی ہو وہاں بھی یہی حکم ہے کہ خارج مسجد کہی جائے جبکہ فتنہ کا صیح اندیشہ نہ ہواور فتنہ کے خوف کو بہانہ بنانا جائز نہیں۔ اگر واقعی مسجد سے باہر جگہ نہ ہو تو صورت یہ ہے کہ لکڑی کا منبر بنائیں اور محراب میں رکھ کر دروازہ مسجد پر کھڑے ہو کر اذان پڑھیں کہ سنت یہی ہے اور زید کا قول غلط ہے اس پر تو بہ لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادی غفرلہ
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۳ · صفحہ ۵۹
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
جمعہ کے خطبہ کی اذان کی جگہ اور خطیب کے سامنے ہونے کا شرعی حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ
اذان ثانی یعنی خطبہ کی اذان مسجد کے اندر ہونی چاہیے یا باہر
باب: کتاب الصلوٰۃ
مؤذن کے اقامت کہنے کی جگہ اور امام کے دعا کے رخ کا بیان
باب: کتاب الصلوٰۃ
اذان خطبہ مسجد کے باہر ہونی چاہئے اور مسجد کے اندر مکروہ ہے
باب: کتاب الصلوٰۃ
قرآن کی غلط قرأت اور داڑھی منڈے شخص کی اذان کا شرعی حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ