اذان ثانی یعنی خطبہ کی اذان مسجد کے اندر ہونی چاہیے یا باہر
اذان خطبہ کہاں ہو؟ جناب قبلہ مولوی صاحب! السلام علیکم علمائے دین شرع متین کیا فرماتے ہیں اس مسئلہ میں کہ : اذان ثانی خطبہ کی مسجد کے اندر ہونا چاہئے یا با ہر علمائے پیلی بھیت اور علمائے بریلی با ہر ہونا ثابت کرتے ہیں از راہ کرم مع دلیل کے آگاہ کیا جائے کیا صحیح ہے؟ سائل : محمد عاقل ،محلہ شیر محمد پیلی بھیت
فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله الجواب: وہی صحیح ہے جو علمائے اہلسنت و جماعت بتاتے ہیں یعنی اذان مسجد کے باہر دی جائے مسجد کے اندر کوئی اذان جائز نہیں ۔ خانیہ میں ہے: وو ،، ينبغی ان یوذن على المئذنة او خارج المسجد ولا يؤذن في المسجد (۳) (1) (۲) الدر المختار، ج ۲، ص ۲۱ ، كتاب الصلوة باب الاذان، دار الكتب العلميه بيروت جامع الترمذى، ج ۱، ص ۲۸ ، ابواب الصلوة ، مجلس بركات (۳) فتاوی قاضی خان ، ج ۱، ص ۵۱ کتاب الصلوۃ، باب الاذان، دار الفکر بيروت یعنی اذان مینار پر یا مسجد کے باہر ہونا چاہئے مسجد میں اذان نہیں کہی جائے۔ بعینہ یہی عبارت فتاوی خلاصہ وفتاوی عالمگیریہ میں ہے۔ (۱) فتح القدیر میں ہے: و الاقامة في المسجد ولابد واما الاذان فعلى المئذنة فان لم يكن ففي فناء المسجد وقالوا لايؤذن في المسجد (۲) یعنی اقامت تو ضرور مسجد میں ہوگی۔ رہی اذان تو مینارے پر، مینارہ نہ ہو تو بیرون مسجد زمین متعلق مسجد میں ہو، علمائے کرام فرماتے ہیں مسجد میں اذان نہ ہو نیز اسی فتح القدیر میں فرمایا: هو ذكر الله في المسجداى في حدوده لكراهة الاذان في داخله (۳) یعنی وہ اللہ کا ذکر ہے مسجد میں یعنی حدود مسجد میں، اسلئے کہ مسجد کے اندر اذان دینا مکروہ ہے۔ حاشیہ طحطاوی میں ہے: يكره ان يؤذن في المسجد كما في القهستاني عن النظم فان لم يكن ثمه مكان مرتفع للاذان يؤذن في فناء المسجد كما في الفتح (۲) یعنی مسجد میں اذان دینا مکروہ ہے جیسا کہ قہستانی میں نظم سے منقول ہے۔ تو اگر وہاں اذان کیلئے کوئی بلند مقام نہ بنا ہو تو مسجد کے آس پاس اسکے متعلق زمین میں اذان دے جیسا کہ فتح القدیر میں ہے یہ تمام ارشادات صاف صاف بلا قید ہیں جن میں جمعہ وظہر یا کسی کی تخصیص نہیں مدعی تخصیص پر لازم ہے کہ ایسے ہی کلمات صریحہ معتمدہ میں اذان ثانی جمعہ کا استناد دکھائے مگر ہرگز نہ دکھا سکے گا۔ سنن ابو داؤد کی حدیث میں ہے جسکی سند حسن ہے: عن السائب بن یزید رضی الله تعالى عنه قال كان يؤذن بين يدى رسول الله ﷺ اذا وآله وسلم ! جلس على المنبريوم الجمعة على باب المسجد وابی بکر وعمر () سرکار دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم جب روز جمعہ منبر پر تشریف فرما ہوتے تو حضور کے سامنے اذان مسجد کے دروازے پر دی جاتی اور وہیں سے ابو بکر صدیق و عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے زمانے میں، اور کہیں منقول نہیں کہ حضور نے یا صحابہ نے اذان مسجد کے اندر کہلوائی اور اگر یہ جائز ہوتا تو یہاں جواز کیلئے کم از کم ایک مرتبہ ہونا تو منقول ہوتا_هذا كلمة تلخص ما في الفتاوى الرضویہ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۰ شوال ۱۳۹۷ھ