جمعہ کی دوسری اذان مسجد کے باہر یا امام کے قریب دینے کا شرعی حکم
جمعہ کے دن جب امام صاحب خطبے کیلئے منبر پر بیٹھتے ہیں اس وقت مسجد کے باہر صحن میں اذان دیتے ہیں تو کیا امام کے نزدیک ہی اذان دینا چاہئے یا باہر ہی دینا چاہئے؟ دونوں میں کون بہتر ہے کتنے لوگ یہ اختلاف کرتے ہیں کہ باہر اذان دینا جائز نہیں ہے امام ہی کے نزدیک اذان کہی جائے صحیح جواب سے مطلع فرمائیں۔ المستفتی: انجمن فیض الاسلام، بلرامپور ضلع سرگوجه ایم پی
الجواب: وہ لوگ سنت جاریہ کو بدلنے والے ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ باہر اذان دینا جائز نہیں اور ناجائز کو جائز سمجھ رہے ہیں حضور علیہ الصلاۃ والسلام کے زمانے سے آج تک دستور بھی چلا آ رہا ہے کہ اذان و اقامت کا مقام جدا گانہ ہے اقامت داخل مسجد اور اذان خارج مسجد ہوتی آئی ہے۔ ہدایہ میں ہے: والمكان في مسألتنا مختلف () فتح القدیر میں اس کے تحت ہے: المعهود اختلاف مكانهما و الاقامة فى المسجد ولا بد و اما الاذان فعلى المئذنة فان لم يكن ثمه ففى فناء المسجد وقالو الايؤذن في المسجد“ ملتقطاً (۲) بلکہ سنن ابو داؤد شریف میں حضرت سائب بن یزید سے مروی کہ جمعہ کے دن اذان منبر کے سامنے دروازہ مسجد پر حضور علیہ الصلاۃ والسلام اور شیخین صدیق و فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے زمانے میں ہوتی تھی ۔ (۳) اور صحن مسجد ہی ہے لہذا وہاں اذان نہ دیں بلکہ دروازہ مسجد یا وضوخانہ وغیرہ سے کسی جگہ پراذان دی جائے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۱) الهداية ، ج ۱، ص ۸۹ كتاب الصلوة ، باب الاذان، کتب خانه رحیمیه (۲) فتح القدير، ج ۱، ص ۲۵۰، کتاب الصلوۃ، باب الاذان ، برکات رضا گجرات (۳) سنن ابی داؤد، ج ۱، ص ۱۵۵، کتاب الصلوة ، باب وقت صلوة الجمعه، اصح المطابع