مسجد کے اندر اذان کے مکروہ ہونے اور باہر اذان دینے کی فضیلت کے بارے میں
دیگر اجر عظیم کے مستحق ہوں۔ گزارش اینکہ آپ اس مضمون سے جواب اہل جماعت کو تحریر فرمائیں کہ بے شک اذان اندر کی ناجائز ہے اگر کوئی باہر سے اذان کی ممانعت کرے اور حوالہ پیش کرے کہ فلاں فلاں جامع مسجد میں اندر ہی اذان خطبہ ہوا کرتی ہے پہلے ان سب مسجدوں کی اذان باہر سے ہوگی تب یہاں بھی آغاز کرونگا تو ایسا جواب لغو ہے۔ لہذا یہ اسلامی دائرہ میں داغ لگانا ہے۔ جائے صد با افسوس ہے کہ باہر سے اذان کا جو شہیدی ثواب رکھتا ہے اس سے ناواقف لوگ انکار کر کے مسجد میں داخل ہوتے ہیں ۔ بیشک مذکورہ اذان کو موصوف بادشاہ نے اپنے ذہن سے بیچ مسجد صف اول سے دلوائی تھی جو خلاف مسنون ہے اکثر مسجدوں میں زمانہ قدیم سے اذان دروازہ پر سے ہو رہی ہے مستفتی کی جانب سے حضرت مفتی صاحب کو دست بستہ عرض ہے کہ جس طور پر میں نے تحریر کرنے کی اجازت دی ہے اگر آپ کو پسند نہ ہو تو آپ خود تحریر فرماتے ہوئے ایسا مضمون تحریر کریں جس سے اہل جماعت خوش ہو کر دروازے پر سے اذان کا دینا منظور کر لیں تا کہ ثواب عظیم کے حقدار ہوں ۔ دربھنگہ کے مفتی صاحب نے بھی جواب سے مطلع فرمایا تھا کہ بے شک اذان دروازے پر کی شہیدی درجہ رکھتی ہے مگر میں بھی کیا کروں بہت زمانے سے رواج پڑا ہوا ہے اور میری طاقت نہیں ہے جو دروازے پر سے بانگ دلواؤں۔ فقط والسلام مستفتی: شیخ مولی بخش موضع پنهان پوسٹ سکری در بهتنگه
الجواب: فی الواقع اذان منارہ پر یافنائے مسجد میں مسنون ہے اور خاص موضع صلاۃ میں کوئی اذ ان جائز نہیں بند یہ میں قاضی خاں سے ہے: ينبغي ان يؤذن على المئذنة او خارج المسجد ولا يؤذن في المسجد (1) طحطاوی علی المراقی میں ہے: یکره ان يؤذن في المسجد (۲) (1) الفتاوى الهندية ، ج ١ ، ص ١١٢ ، كتاب الصلوة الباب الثانى فى الاذان، دار الفکر بيروت (۲) الطحطاوي علی المراقی ، ص۱۹۷، کتاب الصلوۃ، باب الاذان ، دار الکتب العلميه بيروت تبیین و ہدایہ میں ہے: اس کے تحت فتح القدیر میں ہے: المكان في مسألتنا مختلف (1) يفيد كون المعهود اختلاف مكانهما والاقامة في المسجد ولا بد واما الاذان فعلى المئذنة فان لم يكن ففي فناء المسجد وقالو الايؤذن في المسجد (۲)ملتقطاً نیز فتح القدیر باب جمعہ میں ہے: هو ذكر الله في المسجداى في حدوده لكراهة الاذان في داخله(۳) اور ایں و آں سے بڑھ کر حدیث میں ہے جو سنن ابو داؤد میں حضرت سائب بن یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی: كان يؤذن بين يدى رسول الله ﷺ اذا جلس على المنبر يوم الجمعة على باب المسجدوابی بکروعمر(٢) یعنی جمعہ کی اذان حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اور ابوبکر وعمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے عہد میں دروازہ مسجد پر منبر کے سامنے ہوا کرتی تھی تو ثابت کہ یہی مسنون و معمول مسلمین ہے کہ اذان خارج مسجد کہی جائے اور یہی حکم اذان ثانی جمعہ کا بھی ہے واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله