جمعہ کی دوسری اذان (اذان ثانی) کے مقام اور طریقہ کار کی شرعی حیثیت
حاشیہ (۳) قوله فاذا نزل اقام قلت هذا يدل على ان بلا لاً كان يؤذن يوم الجمعة عند النبى الله الله في داخل المسجد لا على بابه لانه كان يقيم اذ انزل النبي عن المنبر فلو كان يؤذن على باب المسجدثم يدخل فى الصف الاول للاقامة لزمه التخطى وهو منهى عنه فدل على ان التأذين عند الخطبة والاقامة عند النزول كان محلهما واحداً و محل الاقامة عند الامام فكذالك التأذين عند الخطبة محله عند الامام وبذالك جرى التوارث على ما قال صاحب الهداية قلت فبطل بذالك قول من زعم ان التأذين عند الخطبة في المسجد بدعة ١٢ مذکورہ بالا احادیث اور تینوں عبارات و حواشی کا ترجمہ فرماتے ہوئے تشریح و تطبیق ، اور تعارض دفع کرتے ہوئے مذاہب ائمہ کو بیان فرما ئیں اور مذہب ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ پر روشنی ڈالتے ہوئے مدلل جواب عنایت فرما ئیں ۔ یہاں اذان ثانی کے بارے میں فساد ہورہا ہے۔ لمستفتی: محمد سجاد حسین مسکونہ مٹیاری
الجواب: حدیث اول کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت سائب بن یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ پہلی اذان زمان برکت نشان حضور سید الانس والجان علیه السلام و شیخین کریمین ابو بکر وعمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما میں اس وقت ہوتی جب امام منبر پر رونق افروز ہوتا پھر جب حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کا زمانہ آیا اور لوگ کثیر ہوئے تو انہوں نے ایک اذان کا اس پہلی والی اذان سے پہلے اضافہ فرمایا (جسے حدیث مذکور میں ) ثالث باعتبار اقامت فرمایا جو دروازہ پر کہی گئی پھر امر برقرار ومستمر ہو گیا یہ حدیث بخاری ونسائی وابوداؤد نے روایت کی تیسری حدیث پہلی کے متقارب المعنی ہے اور اس میں قدرے تفصیل ہے اور ایک گونہ اجمال بھی ہے کمالا تخفی جس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت سائب بن یزید سے روایت که حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ جمعہ کے دن اس وقت اذان کہتے جب حضور علیہ السلام منبر پر جلوس فرماتے اور جب منبر سے نزول فرماتے بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ اقامت کہتے پھر ابوبکر و عمر رضی اللہ تعالی عنہما کے زمانے میں ایسا ہی ہوتا یہ حدیث احمد و نسائی نے روایت کی اور اس کی سند صحیح ہے۔ دوسری حدیث انہیں صحابی مذکور سے بین و مفصل مروی جس کا حاصل یہ ہے کہ جمعہ کی اذان حضور اقدس علیہ السلام کے سامنے دروازہ مسجد پر اس وقت کہی جاتی تھی جب حضور منبر انور پر جلوس فرماتے تھے اور ایسے ہی ابوبکر وعمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے زمانہ میں یہ اذان خطیب کے سامنے دروازہ مسجد پر ہوتی تھی۔ کوئی نیموی ہیں جنہوں نے اس حدیث میں وارد علی باب المسجد پر یہ طعن کیا ہے کہ یہ لفظ غیر محفوظ ہے اور یہ صاحب اس طعن میں منفرد ہیں اور انہوں نے اس میں تحکم سے کام لیا ہے اور ان کا یہ طعن بیچند وجوہ بے اثر ۔ اولاً یہ حدیث امام اجل ابو داؤد نے اپنی کتاب میں لکھی اور اس پر سکوت فرمایا اور جس پر وہ سکوت فرمائیں وہ حدیث لا اقل حسن ہوتی ہے مرقاۃ شرح مشکوۃ میں ہے: قال المنذري ماسكت عليه لا ينزل عن درجة الحسن و قال النووى مارواه في سننه ولم يذكر ضعفه هو عنده صحیح او حسن وقال ابن عبد البر ماسكت عليه صحیح عنده سيما ان لم يكن في الباب غيره (1) تو حدیث صحیح ہے یا حسن ہے۔ ثانیاً اسے یوں رد کرنے کی ہوس بیجا۔ حدیث میں علی باب المسجد کو غیر محفوظ بتانے کا سبب کیا ہے؟ بین یدی رسول الله و اللہ بھی اس حدیث کے سوا کسی میں وارد نہیں تو اسے غیر محفوظ نہ بتانا اور علی باب المسجد کو غیر محفوظ بتانا تحکم و دعوی بے دلیل ہے۔ ثالثاً غیر محفوظ ماننا تو ثقہ کی وہ روایت ہے جو دوسرے ثقہ یا ثقات کے معارض ہوایسی جگہ زیادت حفظ و کثرت رواۃ ودیگر وجوہ سے ترجیح دیتے ہیں اور راج کو محفوظ کہتے ہیں۔ مقدمہ شیخ عبدالحق محدث دہلوی میں ہے: وو در اصطلاح حدیثه که روایت کرده شده است مخالف آنچه روایت کرده اند آن را ثقات پس اگر را وی آں ثقه نیست مردود است و اگر ثقه است سبیل در اینجا ترجیح است بمزید حفظ یا کثرت عدد و دیگر وجوه ترجیحات پس آنرا که راجح است محفوظ خوانند و مرجوح را شان (۲) (۱) مرقاة المفاتيح شرح مشكوة المصابيح، خطبة الكتاب، ج ۱، ص۷۳، دار الکتب العلميه بيروت (۲) اشعة اللمعات ، حصه اول، مقدمه، ص ۴ ، مکتبه نوریه رضویه، سکهر اب غیر محفوظ کہنے والے یہ بتائیں کہ یہ روایت دیگر روایتوں کی کس بات میں معارض واقع ہوئی ۔ کہ آپ طریق ترجیح پر چلے معارض تو جب ہوتی کہ ان دو حدیثوں میں متصل منبر داخل مسجد اذان جمعہ ہونے کی تصریح ہوتی ؟ حالانکہ ان میں اس کی تصریح نہیں تو وہ دونوں بہ سبب اجمال اندرون مسجد و بیرون مسجد دونوں کو مشتمل اور یہ احد الا جمال کی معین اور اجمال کا بیان تو یہاں طریق جمع ممکن اور جب ممکن تو ترجیح کیونکر اور کس کیلئے؟ رابعاً اس روایت ابو داؤد شریف کو چھوڑ کر ان دو روایتوں پر کوئی عمل کر کے بتا تو دے؟ ان دونوں روایتوں میں نہ اذان جمعہ کا محل مذکور نہ کیفیت مبین ، تو وہ مزعوم داخل مسجد اور بین یدی الامام ہونا کہاں سے سمجھا جائے گا؟ خامسا اب بول چلئے کہ وہ دونوں حدیثیں محل وکیفیت میں مجمل اور جب وہ مجمل ہیں تو یہ ابوداؤ د والی حدیث ان دونوں کے اجمال کا بیان اور تفصیل وارد ہوئی اور قاعدہ یہ ہے کہ ”المفصل يقضى على المجمل كذا في الزرقانی علی الموطا امام مالک رضی اللہ تعالی عنہ۔ اور اس قاعدہ پر بین یدی تک اسی حدیث میں عمل آنجناب معترض نے بھی کیا تو قطعا بین یدی کو ان حدیثوں کے معارض جانا بلکہ تفصیل اجمال و توضیح مراد جانا۔ ایک ہی حدیث میں یہ دورنگی کیوں کیا ؟ علی باب المسجد کے بابت کوئی تصریح پائی کہ یہ ان حدیثوں کے معارض ہے لہذا غیر محفوظ ہو کر نالائق عمل ہے؟ وہ تصریح ہمیں بھی دکھا دی جائے اور داخل مسجد متصل منبر کی روایت میں وارد ہے ہمیں بھی پتہ دیا جائے تو ھهـا تـوابـرهــا نـکم ان کنتم صادقین۔ سادساً غیر محفوظ کہنا جو شاذ کے مرادف ہے اور شاذ کی تعریف ابھی سن چکے کہ وہ ثقہ کی وہ روایت ہے جو مخالف ثقات واقع ہو تو آپ ہی اس حدیث کے راوی محمد بن اسحاق کو ثقہ مان رہے ہیں اور ثقہ کی روایت بے وجہ رد نہیں ہوسکتی۔ تو آنجناب معترض کا غیر محفوظ کہنا کافی ۔ ان کے ذمہ دوسری روایتوں کی وجوہ ترجیح بنانا اور بطریق جمع وتطبیق کونامتصور ثابت کرنا تھا اور اس روایت کو رد کرنا مقصود نہ تھا تو ایسی عبارت جو مشعر ر تھی اس پر اکتفا نہ کرنا تھا بلکہ ماقبل کی تصریح فرمانے کی غرض تھی ۔ آنجناب کا غیر محفوظ، قاصر و کوتاہ اور تعاقب سے غیر محفوظ۔ سابعاً یہ اعتراض جناب ایجاد بندہ ہے یا اس میں آپ کا مؤید کوئی سلف معتمد ومستند خلف ہے؟ ہے تو (۱) شرح الزرقاني على المؤطا للامام مالک، باب ما جاء فى النداء للصلوة، ج ۱، ص ۱۹۹، دار الكتب العلمية، بيروت ضرورضرور بتائیے ۔ بینوا توجروا۔ رہا حاشیہ میں یہ شقشقہ کہ تفردہ محمد بن اسحق عن الزهرى عن السائب بن يزيد الخ یعنی علی باب المسجد کی روایت میں محمد بن اسحق زہری پھر سائب بن یزید سے منفرد ہیں اور زہری کے بہت اصحاب یونس و عقیل و ماجشون اور ابن ابی ذئب (احمد وابوداؤد دو ابن ماجہ کی روایتیں) اور صالح وسلیمان تیمی نے نسائی کی سند میں سب نے زہری سے اور انہوں نے سائب بن یزید سے بغیر اس لفظ کے روایت کی الخ ما قال تو اس کا جواب اولاً یہ ہے کہ محمد بن اسحق ثقہ ہیں فتح القدیر میں ہے: اما ابن اسحق فثقة ثقة لا شبهة عندنا في ذلك ولاعندمحققی المحدثین (۱) اسی میں ہے: بتوثيق ابن اسحق وهو الحق الابلج وما نقل عن مالك فيه لا يثبت و لو صح لم يقبله اهل العلم الخ (۲) اور ثقہ کا تفرد قابل صحت جس کی اسناد نہیں۔ زرقانی علی المؤطا میں سیدنا امام مالک کی روایت: حدثنی عن مالک عن عبید الله بن عبد الرحمن عن عبيد بن حنین مولی آل زيد بن الخطاب انه قال سمعت ابا هريرة يقول اقبلت مع رسول الله صلى الله تعالی علیہ و سلم فسمع رجلا يقرأ قل هو الله احد فقال رسول الله ا و وجبت فسألته ماذا يا رسول الله فقال الجنة فقال ابو هريرة فاردت ان اذهب اليه فابشره ثم فرقت ان يفوتنى الغداء مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فأثرت الغداء مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم ذهبت الى الرجل فو جدته قد ذهب۔ کے بابت ہے: قال الترمذى حديث حسن صحیح غریب لا نعرفه الامن حدیث مالک یـ هو امام حافظ فلا يضره التفرد (۳) یعنی و (۱) فتح القدير ج ا ، كتاب الصلوۃ، باب صلوة الوتر، ص ۴۳۷ ، برکات رضا (۲) فتح القدير، ج ۱، ص ۲۳۱ ، كتاب الصلوة، فصل يستحب الاسفار في الفجر بركات رضا (۳) شرح الزرقانی علی موطا مالک، کتاب القرآن، ج ۱، ص ۳۷۴ ، باب ماجاء في قرأة قل هو الله احد وتبارك الذي بيده الملک، مطبع خيرية تو سکوت ابو داؤد صحت حدیث کے صحیح اور حسن ہونے کو حجت کافیہ ہے ۔ ثامناً بین یدی رسول الہ سال یا تم میں بھی محمد بن اسحق متفرد تو سوال علی باب المسجد پر کیوں ہے؟ اور حاشیہ میں جو کہا کہ ”قوله على باب المسجد يعارضه مافى الحديث ابن اسحق من قوله كان يؤذن بين يدى رسول وال العالم الان التاذين عند الخطبة لو كان على باب المسجد لم يكن بين يديه ولا يعنى على باب المسجد ، بین یدی رسول اللہ اللہ کے معارض ہے اسلئے کہ اذان اگر درواز ہ مسجد پر ہوتی تو حضور علیہ السلام کے (بین یدی) سامنے قرب میں نہ ہوتی ۔ جواب اس کا یہ ہے کہ آنجناب معترض کا بین یدی اور باب المسجد میں معارضت سمجھنا انوکھا خیال ہے۔ اللہ تعالیٰ آسمان کو جو ہمارے اوپر ہے بین یدی فرمارہا ہے قرآن عظیم میں فرماتا ہے: أفَلَمْ يَرَوْا إِلَى مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ مِّنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ - الآية () اور حد نظر تک جو کچھ محسوس و مبصر ہو قرآن عظیم اسے ہمارے بین یدی فرما رہا ہے يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ (۲) قال البیضاوی تحت قوله تعالى : هذا مانصه ما قبلهم وما بعد هم او بالعكس اى مستقبل المستقبل و مستدبر الماضي اوا مور الدنيا وامور الأخرة ما يجوز او ما يحسونه وما يعقلونه او ما يدركونه وما لايدركونه(۳) یہیں سے یہ ظاہر ہوا کہ حاشیہ کا یہ دعوی کہ لا یقال بين يديه بشئ على من وراء الصفوف بے دلیل ، قرآن عظیم اس کا صریح مکذب ہے اور یہیں سے ظاہر ہوا کہ بین یدی کا مفاد لغۃ مطلق قرب ہے اور وہ کسی خاص حد سے محدود نہیں کہ بین یدی کا مفادا تصال وبے پردہ ہو اور جو مدعی ہے اس پر دلیل دینا لازم اور اب جو نتیجہ ان لفظوں میں دیا کہ فتبین ان حدیث ابن اسحق فی التاذین عند الخطبة على باب المسجد ليس في تقوم به الحجة اسی ادعائے بے دلیل پر مبنی تو یہ نتیجہ نتیجہ عظیمیہ ہے۔ واللہ المحجۃ السامیہ۔ اور دوسرے حاشیہ میں جو فاذا نزل اقام ( یعنی حضرت بلال اقامت کہتے جب حضور علیہ السلام منبر سے نزول فرماتے ) پر کہا کہ یہ حدیث اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ حضرت بلال اندرون مسجد حضور علیہ السلام کے قریب اذان دیتے تھے اسلئے کہ اگر دروازہ مسجد پر اذان دیکر صف اول میں داخل ہوتے تو تخطی رقاب ( گردن پھلانگنا ) لازم آتا اور یہ ممنوع ہے زعم فاسد پر مبنی ہے کیا دلیل ہے کہ حضرت بلال کو صف اول میں اقامت کہنے کا التزام تھا۔ کیوں نہیں جائز کہ پچھلی صفوف میں اقامت کہتے ہوں اور یہی سہی کہ صف اول میں اقامت فرماتے تھے تو ضرور ان کی جگہ صف اول میں خالی رہتی تھی اور پہلی صف میں جبکہ جگہ خالی ہو تو اسے بھر دینا تخطی وممنوع نہیں کہ بر بنائے حاجت ہے اور عند الحاجت تخطی کی رخصت ہے۔ کشف الغمہ میں ہے: كان صلى الله تعالى عليه وسلم ينهى عن تخطى الرقاب الالحاجة وكان صلى الله تعالى عليه وسلم يرخص في التخطي لحاجة (1) اسی میں ہے: وكانت الصحابة رضى الله عنهم اذا رأوا امامهم فرجة قريبة يتخطون الرقاب اليها ليسدوها (۲) بلکہ بلا حاجت بھی تخطی جائز جبکہ خطیب کے خطبہ کیلئے آ جانے سے پہلے ہو اور کسی کو ایذا نہ ہو۔ طحطاوی علی مراقی الفلاح میں خلاصہ سے ہے: اذا دخل الرجل الجامع وهو ملآن ان كان تخطيه يوذى الناس لم يتخط وان كان لا يوذى احداً بان لا يطأ ثوبا ولا جسداً فلا باس ان يتخطى ويدنو من الامام وروى الفقيه (1) كشف الغمة عن جميع الامة ، ج ۱، ص ۲۰۹ ۲۰۸ ، فصل في أداب اليوم والحضور، كتاب الجمعة، مطبع الكاستلية، مصر (۲) كشف الغمة عن جميع الامة ، ج ۱، ص ۲۰۹ ، فصل في أداب اليوم والحضور، كتاب الجمعة، مطبع الكاستلية مصر ابو جعفر من اصحابنا انه لا باس بالتخطى مالم يخرج الامام اويؤذى احدا)اور جب وہ زعم فاسد پر مبنی تو خود فاسد اسی طرح یہ سوچنا بھی اسی فاسد پر مبنی فدل علی ان التاذين عند الخطبة والاقامة فى المسجد كان محلهما واحداً بھی فاسد اور اذان واقامت کا محل ایک ہونے کا دعوی تصریحات ائمہ کے خلاف۔مدخل امام علامہ محمد بن محمد بن محمد عبدری الشہیر بابن الحاج مالکی میں ہے:ان السنة في اذان الجمعة اذا صعد الامام على المنبران يكون المؤذن على المنار كذلك كان على عهد النبی الله و ابی بکر و عمر و صدرا من خلافة عثمان رضى الله عنهم (۲)اسی میں ہے:قد تقدم ان للاذان ثلثة مواضع المنار وعلى سطح المسجد و على بابه واذا كان ذلک کذالک فیمنع من الاذان في جوف المسجد لوجوه احدها انه لم يكن من فعل من مضى اللهم الا ان يكون للجمع بین الصلوتین فذلك جائز في جوفه و اما الاقامة فلاتكون الا فى المسجد الثانى ان الاذان انما هو نداء للناس لياتوا الى المسجد ومن كان فيه فلا فائدة لندائه، ومالیس فیه فائدة یمنع ملخصا (۳)بالجملہ حدیث ابوداؤ د مقبول علمائے امصار و اعصار ہے اور اس کا مضمون عند الائمہ مقرر ہے۔ اسی لئے فتح الباری میں فرمایا :في سياق ابن اسحق عند الطبراني وغيره عن الزهري في هذا الحديث أن بلا لا رضی الله تعالى عنه كان يؤذن على باب المسجد) اس عبارت فتح الباری سے پتہ چلا کہ اس حدیث کو طبرانی وغیرہ نے بھی روایت کی اور مقر رکھا اسی لئے کشف الغمہ میں فرمایا : كان الاذان الاول على عهد رسول الله ﷺ و ابی بکر و عمر رضی الله تعالى عنهما اذا جلس الخطيب على المنبر (الى قوله) وكان الاذان على باب المسجد (1) اسی لئے فتوحات الہیہ وصاوی میں فرمایا: وهذا اللفظ للصاوى قوله اذا نودى للصلوة المراد به الاذان عند جلوس الخطيب على المنبر و ذلك لانه لم يكن في عهد رسول الله الهام نداء سواه فكان له مؤذن واحد اذا جلس على المنبر اذن على باب المسجد فاذا نزل اقام الصلاة ثم كان ابو بكر و عمر و على بالكوفة على ذلك حتى كان عثمان وكثر الناس و تباعدت المنازل زاد اذاناً آخر فامر بالتأذين اولا على داره التي تسمى الزوراء فاذا سمعوا اقبلو حتى اذا جلس على المنبر اذن المؤذن ثانيا ولم يخالفه احد في ذلك الوقت لقوله والله عليكم بسنتی و سنة الخلفاء الراشدين من بعدی(۲) اور خازن میں اسی حدیث کو نقل کیا اور مقرر رکھا: وهذا ما فيه ولا بی داؤ د قال كان يؤذن بین یدی النبی ﷺ اذا جلس على المنبريوم الجمعة على باب المسجد و ذکر نحوه (۳) اور یونہی کشاف و تفسیر کبیر و تفسیر نیشا پوری میں اس مضمون کا افادہ فرمایا ۔ یہاں سے ظاہر کہ اذان ثانی حدود مسجد میں دروازہ یا فنائے مسجد میں مسنون ہے اور خاص موضع صلاۃ میں ممنوع جیسا کہ مدخل سے گزرا اور اذان جمعہ میں مالکیہ کے نزدیک سنت یہ ہے کہ منارہ پر ہو۔ اور ظاہر یہ ہے کہ دیگر باقی (1) كشف الغمة عن جميع الامة ، ج ۱، ص ۱/۲۱۰ ، فصل فى الاذان والخطبة، كتاب الجمعة، مطبع الكاستلية، مصر (۲) تفسير الصاوى، سورة الجمعة آيت - ۹، ج ۴، ص ۲۰۰ ، دار الكتب العلمية بيروت (۳) تفسیر خازن، ج ۴، ص ۲۹۰ ، سورة الجمعة آيت - ۹ ، دار الكتب العلمية بيروت ائمہ کے نزدیک خطیب کے سامنے دروازہ مسجد پر مسنون ہے۔ اذان کے داخل مسجد مکروہ و منوع ہونے پر ہمارے مذہب حنفی کی نصوص یہ ہیں خانیہ و خلاصہ وخزانته المفتیین و شرح نقایہ علامہ عبد العلی و ہندیہ و تا تارخانیہ ومجمع البرکات میں ہے: ينبغي ان يؤذن على المئذنة او خارج المسجد ولا يؤذن في المسجد () بنا یہ شرح ہدایہ للامام العینی میں ہے: لا يؤذن الافي فناء المسجد وناحيته (۲) غنیہ شرح منیہ میں ہے: الاذان انما يكون فى المئذنة والاقامة في داخله(۳) نظم پھر شرح نقایہ قہستانی پھر طحطاوی حاشیہ مراقی الفلاح میں ہے: یکره ان يؤذن في المسجد (۴) فتح القدیر میں ہے: قوله والمكان في مسالتنا مختلف يفيدكون المعهود اختلاف مكانهما و هو کذلك شرعا والاقامة في المسجد ولابد و اما الاذان فعلى المئذنة فان لم يكن ففي فناء المسجد وقالوا لا يؤذن في المسجد (ه) اسی میں ہے ( خاص اذان جمعہ کے متعلق ): فالاولى ماعينه في الكافي جامعا وهو ذكر الله في المسجد اي في حدوده لكراهة الاذان في داخله (۶) (1) قاضی خان ، ج ۵۱ ، كتاب الصلوۃ، باب الاذان، دار الفکر بیروت (۲) البناية شرح الهداية، ج ۱، ص ۱۰۳ باب الاذان ، دار الكتب العلمية بیروت (۳) غنية المستملى شرح منیۃ المصلی، کتاب الصلوۃ، ص۳۷۷، سهیل اکیڈمی (۴) حاشیة الطحطاوي على المراقي، كتاب الصلوۃ، باب الاذان ، ص ۱۹۷ ، دار الكتب العلميه بیروت (۵) فتح القدير ، ج ۱، ص ۲۵۰ ، كتاب الصلوة، باب الاذان بركات رضا (۶) فتح القدير، ج ۲، ص ۵۶ ، كتاب الصلوة باب الجمعة بركات رضا اور ایک ان کا ہی حاشیہ مندرجہ سوال کا سنتے چلئے جو ہمارے مدعا میں بحمدہ نص ہے، وہ یہ ہے: فکذلك التاذين عند الخطبة في المسجد بدعة مدعی لاکھ پہ بھاری ہے گواہی تیری و اللہ تعالیٰ اعلم وصلی اللہ تعالی علی ید نا محد خیر الانام و آلہ وصحبہ و بارک وسلم۔ فقیر محمد اختر رضا خاں قادری از هری غفرله ۱۷/ذیقعده ۱۴۰۰ھ الجواب صحیح ۔ واللہ تعالی اعلم قد اصاب من اجاب۔واللہ تعالیٰ اعلم تحسین رضا غفرلہ قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی