مسجد سے باہر اذان کی سنیت، مسجد میں اذان کی ممانعت اور اقامت کے وقت کھڑے ہونے کا حکم
سے آگاہ فرما ئیں ۔ فقط (۴) ہرے درخت کٹوانا کیسا ہے زید اس کا پیشہ کرتا ہے ایک دوسرے سے خریدتا ہے اور پھر کٹوا تا ہے بکر کہتا ہے کنوانا نہیں چاہئے تو کو انا چاہئے یا نہیں؟ احکام شرع سے آگاہ کریں۔ فقط والسلام العارض محمد صدر الحق امام مسجد ضلع فرخ آباد یوپی
الجواب: (۱، ۲) اذان خارج مسجد حدود مسجد میں مسنون ہے زمانہ اقدس صلال سلام وزمان شیخین رضی اللہ تعالی عنہما میں اذان جمعہ درواز ہ مسجد ہی پر ہوا کرتی تھی۔ ابوداؤد شریف میں حضرت سائب بن یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہے: كان يؤذن بين يدى رسول الله هل العلم اذا جلس على المنبر يوم الجمعة على باب المسجدوابی بکروعمر() اور کبھی منقول نہیں کہ حضور علیہ السلام نے اذان اندرون مسجد دلوائی ہو۔ اگر یہ جائز ہوتا تو بیان جواز کیلئے ایک مرتبہ تو فرماتے والہذا جملہ فقہائے کرام نے تصریح فرمائی کہ : لا يؤذن في المسجد (۲) مسجد میں اذان نہ دے۔ واللہ تعالیٰ اعلم امام مسجد میں قریب محراب ہو تو امام و مقتدی کو حی علی الفلاح پر کھڑا ہونا چاہئے اور پہلے سے کھڑا رہنا مکروہ ہے۔ بلکہ علماء نے یہاں تک تصریح فرمائی کے اگر اقامت ہونے پر کوئی مسجد میں آئے تو ختم تک کھڑا نہ رہے بلکہ بیٹھ جائے اور حی علی الفلاح پر کھڑا ہو درمختار میں ہے: دخل المسجد والمؤذن يقيم قعد الىی قیام الامام في مصلاه (۳) (1) سنن ابو داؤد، ج ۲، ص ۱۵۵ کتاب الصلوة باب وقت صلوة الجمعه اصح المطابع ، (۲) قاضی خاں ، ج ۱، ص ۵۱ كتاب الصلوة باب الاذان ، دار الفکر بيروت (۳) الدر المختار ورد المحتار ج ۲ ص ۷۱ کتاب الصلوۃ، باب الاذان، دار الكتب العلمية بيروت اور ردالمحتار میں ہے: ویکرہ له الانتظار قائما ولكن يقعدثم يقوم_الخ) زید نے غلط مسئلہ بتایا تو بہ کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) بعد اذان جائز ومستحسن ہے۔ در مختار میں ہے: التسليم بعد الاذان حدث فى ربيع الآخر سنة سبعمائة واحدى ثمانين في عشا ليلة الاثنين ثم يوم الجمعة ثم بعد عشر سنين حدث فى الكل الا المغرب ثم فيها مرتين وهو بدعة حسنة (٢) جزئیہ مذکورہ سے ظاہر کہ یہ عمل مسلمانان عالم میں چھ سو برس پیشتر سے ہے اور اسے فرمایا کہ بدعت حسنہ ہے تو اسے بدعت سیئہ کہتا ساری امت کو گمراہ کہنا ہے ۔ واللہ تعالی اعلم (۴) ان کے کٹوانے میں جرم نہیں بکر کیوں منع کر رہا ہے؟ وجہ معلوم کریں۔ واللہ تعالیٰ اعلم