اذان ثانی کے داخل مسجد مکروہ ہونے کا ثبوت متعدد اسناد سے! ایک غلط فتوے کی تردید
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: ہماری مسجد میں ایک مولانا صاحب نماز جمعہ پڑھانے سے پیشتر خطبہ کی اذان خارج مسجد دلوایا تے تھے چند ماہ بعد کچھ لوگوں نے اعتراض کیا کہ جمعہ کی اذان ثانی مسجد کے اندر ہونی چاہئے ۔ اس پر مولا نا مذکور نے کہا کہ از روئے شرع خطبہ کی اذان ( یعنی جمعہ کی اذان ثانی ) خارج از مسجد درست ہے۔ مولانا صاحب بار بار کہتے ہیں کہ میں کتاب دکھانے کیلئے تیار ہوں آپ نماز پڑھ لیجئے اس پر بھی لوگوں نے نہیں مانا اور گڑ بڑ مچائی۔ اس دن سے جمعہ کے روز مسجد میں دو جماعتیں ہوتی ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ۔ (الف) از روئے شرع خطبہ کی اذان جمعہ کے دن کہاں دی جائے؟ (ب) خطبہ کی اذان خارج از مسجد دیگر اگر نماز جمعہ پڑھی جائے تو کیا یہ نماز نہ ہوگی۔ شرعی جواب مقصود ہے مرحمت فرمائیں۔ بینوا توجروا
الجواب: لمستفتی : اصغر حیبی کٹک اذان ثانی جو خطبہ کے قبل ہوتی ہے وہ داخل مسجد منبر کے سامنے ہونی چاہئے یہی سنت خلفا ہے اور اسی پر عمل امت ہے۔ سب سے پہلے یہ معلوم ہونا چاہئے کہ اذان کا مقصد کیا ہے؟ فقہا کی تصریحات سے ثابت ہے کہ اذان کا مقصد اطلاع غائبین ہے یعنی جو لوگ مسجد میں نہیں ہیں ان کو خبر دینا کہ نماز کا وقت ہو گیا ہے۔ جیسا کہ شرح وقایہ میں ایک جگہ ہے: الاذان لا علام الغائبين [ شرح الوقاية ، ج 1 ، كتاب الصلوۃ، باب الاذان ، ص ۱۳۶ ، رضا اکیڈمی ممبئی ] ا اور اقامت اعلام حاضرین کیلئے ہوتی ہے کہ مسجد میں موجود لوگوں کو تنبیہ کر دی جائے کہ نماز شروع ہو رہی ہے۔ شرح وقایہ میں ہے: لانها لاعلام الحاضرين [ شرح الوقاية ، ج 1 ، كتاب الصلوة، باب الاذان ، ص ۱۳۶ ، رضا اکیڈمی ممبئی ] نفع المفتی میں ہے: يحول في الاذان لانه لا علام الغائبين واما الاقامة فهى لتنبيه الحاضرين ملخصاً [ نفع المفتى والسائل كتاب الصلوة ، باب الاذان ، ص ۲۷، مطبع مجتبائی ] اب دیکھا جائے کہ جمعہ کی اذان ثانی کا مقصد کیا ہے؟ عہد نبوی میں جمعہ کی اذان اول نہ تھی صرف یہی اذان جس سے اعلام غائبین کا کام لیا جاتا ہے اس لئے یہ مسجد کے دروازے پر ہوتی تھی اور ایسا ہی عہد صدیقی و فاروقی میں بھی معمول تھا حضرت سائب بن یزید سے مروی ہے: كان يؤذن بين يدى رسول الله ا ل ل ل ل ل له اذا جلس على المنبر يوم الجمعة على باب المسجد وابی بکر وعمر [ سنن ابوداؤد، ج ۱، ص ۱۵۵ ، کتاب الصلوۃ، باب وقت صلوة الجمعة اصح المطابع ] عہد عثمانی میں عابدین کی کثرت کی وجہ سے ایک اور اذان کا اضافہ ہوا جو اذان اول کہلائی یہ اذان مقام زوراء پر دی جانے لگی۔ بخاری شریف میں ہے: كان النداء يوم الجمعة او له اذا جلس الامام على المنبر على عهد النبى الله و ابی بکر و عمر فلما كان عثمان وكثر الناس زاد النداء الثالث على الزوراء (بخاری)۔ [صحيح البخارى، ج ۱، کتاب الصلوۃ، باب الاذان يوم الجمعة ، ص ۱۲۴ ، مجلس برکات مباركفور ] چونکہ اذان اول سے اطلاع اخبار عام کا مقصد پورا ہوجاتا تھا اس لئے اذان ثانی کا مقصد حاضرین مسجد کی آگاہی و تنبیہ قرار پایا کہ مسجد میں موجودلوگوں کو خطبہ کیلئے خاموش و متنبہ کیا جائے ۔ حافظ ابن حجر فرماتے ہیں: لمازيد الاذان الاول كان للاعلام وكان الذي بين يدى الخطيب للانصات [ فتح الباری شرح صحیح البخاری، ج ۲، ص ۵۰۶، کتاب الصلوۃ، باب الاذان ، يوم الجمعة، دار السلام رياض ] علامہ ابن المنیر فرماتے ہیں: والحكمة فيه سكون اللغط والتهيؤ للانصات والاستنصات لسماع الخطبة واحضار الذهن للذكر [ فتح الباری شرح صحیح البخاری، ج ۲، ص ۵۱۰ ، کتاب الصلوۃ، باب الاذان، يوم الجمعة، دار السلام رياض] جب اذان ثانی کا مقصد بدل گیا تو یہ اقامت کے مثل ہو گئی جس طرح اقامت اعلام حاضرین کیلئے ہوتی ہے اسی طرح اس کا مقصد بھی اعلام حاضرین اور انصات ناس ہوا اور حاضرین کو خبر کرنے کیلئے اذان کو مسجد کے اندر ہونا چاہئے نہ کہ باہر ۔اسی وجہ سے فقہائے احناف میں سے کسی نے بھی اس اذان کیلئے علی باب المسجد یا خارج مسجد کے الفاظ استعمال نہیں کئے ہیں۔ یہی بین یدی المنبر لکھتے ہیں۔ ہدایہ میں ہے: اذا صعد الامام المنبر جلس و اذن المؤذنون بين يدى المنبر و بذلك جرى التوارث الهداية اولين كتاب الصلوۃ، باب الجمعة، ص ۱۷۱ مجلس بركات ] بلکہ بعض کتب فقہ میں تصریح ہے کہ یہ اقامت کے مثل ہے اور اس میں زیادہ رفع صوت بھی نہ ہونا چاہئے ۔ مراقی الفلاح میں ہے: والاذان بين يديه جرى التوارث كا لاقامة بعد الخطبة مراقی الفلاح، کتاب الصلوۃ، باب الجمعة ، ص ۱۹۳ ، مكتبه اسعدی ] شرح شرح وقایہ میں ہے: اى اذان لا يستحب رفع الصوت فيه قل هوا الاذان الثاني يوم الجمعة الذي يكون بين يدى الخطيب لانه كالاقامة لاعلام الحاضرین۔ صرح به جماعة من الفقهاء- [ السعاية في كشف ما فی شرح الوقایة، ج ۲، ص ۳۸ باب الاذان المقام الثانی فی ذکر احوال المؤذن وما يتعلق به ، مكتبة شيخ الهند ] اتنی تفصیل سے یہ بات واضح ہوگئی کہ جمعہ کی اذان ثانی اقامت کے مثل ہے اور اقامت ہی کی طرح اسے بھی مسجد کے اندر منبر کے سامنے ہونی چاہئے اور اسی پر تعامل اقامت ہے۔ اب سوال کے جواب بالترتیب ملاحظہ فرمائیں۔ (الف ) از روئے شرع خطبہ جمعہ کی اذان منبر کے سامنے داخل مسجد ہونی چاہئے ۔ (ب ) اذان نماز کے داخل کی چیز نہیں ہے کہ اس کے غلط پر ہونے سے نماز فاسد ہو جائے۔ اذان مسجد کے اندر ہو یا مسجد کے باہر نماز تو ہو جائے گی البتہ جمعہ کی اذان ثانی کا مسجد سے باہر دینا خلاف سنت اور خلاف تعامل ہے اس لئے یہ حل کراہت سے خالی نہ ہوگا۔ الحبيب : بدر احمدالحبیبی الجواب صحیح: هلال احمد پھلواری الجواب: اذان خارج مسجد حدود مسجد میں مسنون ہے اور خاص مسجد ( کہ موضع صلاۃ ہے ) میں اذان پنجگانہ ہو یا اذان ثانی جمعہ ممنوع ہے۔ اور خلاف سنت متوارثہ کو صیح بتا نا شرع پر افتر اور بہتان ہے جیسا کہ ظاہر ہوگا۔ ہمارے علمائے کرام نے فتاویٰ قاضی خاں وفتاوی خلاصه و فتح القدير ونظم و شرح نقایه برجندی والبحر الرائق، فتاویٰ ہندیہ و طحطاوی علی مراقی الفلاح وغیر ہا میں تصریح فرمائی کہ مسجد میں اذان دینی مکروہ ہے: ينبغي ان يؤذن على المئذنة او خارج المسجد ولا يؤذن في المسجد (1) یعنی اذان منارے پر یا مسجد کے باہر ہونی چاہئے مسجد میں اذان نہ کہی جائے بعینہ یہی عبارت فتاوی خلاصہ وفتاوی عالمگیر یہ یعنی ہند یہ میں ہے۔ فتح القدیر میں ہے: الاقامة في المسجد لا بد وامالاذان فعلى المئذنة فان لم يكن ففي فناء المسجد وقالوا لا يؤذن في المسجد (۲) یعنی تکبیر تو ضرور مسجد میں ہوگی ۔ رہی اذان تو وہ منارے کے اوپر ہو۔ منارہ نہ ہو تو زمین متعلق مسجد میں ہو علما فرماتے ہیں مسجد میں اذان نہ ہو۔ نیز اسی کے باب الجمعہ میں فرمایا: هو ذكر الله في المسجداى في حددده لكراهة الاذان في داخله(۳) وہ ( یعنی خطبہ اللہ تعالی کا ذکر ہے مسجد میں یعنی حدود مسجد اس لئے کہ خود مسجد کے اندر اذان دینی مکروہ ہے۔ (1) قاضی خان ، ج ۱، ص ۵۱ كتاب الصلوة باب الاذان، دار الفکر بيروت (4) فتح القدير، ج ۱، ص ۲۵۰، کتاب الصلوۃ، باب الاذان برکات رضا (۳) فتح القدير، ج ۲، ص ۵۶ ، کتاب الصلوۃ، باب صلوة الجمعه، برکات رضا شرح مختصر الوقایہ للعلامہ عبدالعلی میں ہے: في ايرادا لمئذنة اشار بان السنة فى الاذان ان يكون في موضع عــال انه ينبغي الخ اه مختصراً یعنی صدر الشریعہ قدس سرہ نے اذان کے لئے جو منارے کا ذکر فرمایا ہے اسمیں تنبیہ ہے اس پر کہ اذان میں سنت یہ ہے کہ بلند جگہ پر ہو۔ ویسن الاذان فی موضع عال والاقامة على الارض وفى اذان المغرب اختلاف المشائخ بحر الرائق میں ہے: وفي السراج: ينبغي للمؤذن ان يؤذن فى موضع يكون اسمع للجيران ، وفي الخلاصة ولا يؤذن في المسجداہ اور البحر الرائق میں مختصر القنیہ سے ہے: يسن الاذان في موضع عال والاقامة على الارض - یعنی اذان بلندی پر اور تکبیر زمین پر ہونا سنت ہے۔ اور مغرب کی اذان میں مشائخ کا اختلاف ہے کہ وہ بھی بلندی پر ہونا مسنون ہے یا نہیں اور ظاہر یہ ہے کہ مغرب میں بھی اذان بلندی پر ہونا سنت ہے۔ اور اسی میں سراج وہاج سے ہے اذان وہاں ہونی چاہئے جہاں سے ہمسایوں کو خوب آواز پہنچے۔ اور خلاصہ میں فرمایا: لا يؤذن في المسجد“ مسجد میں اذان نہ دے۔ اسی میں چند ورق کے بعد ہے: السنة ان يكون الاذان فى المنارة والاقامة في المسجد) سنت یہ ہے کہ اذان منارے پر ہو اور تکبیر مسجد میں ۔ حاشیہ طحطاوی میں ہے: يكره ان يؤذن في المسجد كما في القهستاني عن النظم فان لم يكن ثمه مكان مرتفع للاذان يؤذن في فناء المسجد کما فی الفتح (۲) یعنی مسجد میں اذان دینی مکروہ ہے جیسا کہ قہستانی میں نظم سے منقول ہے تو اگر وہاں اذان کے لئے کوئی بلند مکان نہ بنا ہو تو مسجد کے آس پاس اس کے متعلق زمین میں اذان دے جیسا کہ فتح القدیر میں ہے یہ تمام ارشادات صاف صاف مطلق بلا قید ہیں جن میں جمعہ وغیر ہاکسی کی تخصیص نہیں مدعی تخصیص پر لازم ہے کہ ایسے ہی کلمات صریحہ معتمدہ میں اذان ثانی جمعہ اندرون مسجد کا استناد دکھائے مگر ہرگز نہ دکھا سکے گا۔هذا ملخص ما فی الفتاوى الرضوية ج ۳ ص ۷۱ بحمدہ تعالیٰ ان کلمات سے مسئلہ اذان ثانی جمعہ ظاہر ہو گیا اور تعامل کیا ہے اور حکم شرع کیا ہے خوب آشکار ہو گیا۔ رہا فتویٰ منسلکہ کا یہ دعوئی کہ اس وجہ سے کہ فقہائے احناف میں سے کسی نے بھی اس اذان کیلئے علی باب المسجد یا خارج المسجد کے الفاظ استعمال نہیں کئے ہیں سبھی بین یدی المنبر لکھتے ہیں اس کا جواب سید نا اعلیحضرت فاضل بریلوی نے پہلے ہی دیدیا ہے۔ پھر اگر ادنی عقل سے کام لیجئے تو فتح القدیر کی عبارت جو باب الجمعہ میں تحریر ہوئی جس میں فرمایا کہ اذان ذکر الہی ہے مسجد میں یعنی حدود مسجد میں اس لئے کہ مسجد کے اندر اذان مکروہ ہے اس عبارت کے باب الجمعہ میں خطبہ کے ذکر پر تحریر ہونے سے صاف ظاہر ہے کہ اس جگہ اذان سے مراد وہی خطبہ والی اذان ہے اور صاحب فتح القدیر نے اس کو بھی مثل اذان پنجگانہ مسجد میں مکروہ فرمایا ہے تو فتح القدیر کی اس عبارت میں اپنے مورد کے اعتبار سے خطبہ والی اذان کیلئے بھی گویا تصریح ہو گئی کہ یہ بھی مسجد کے باہر ہونا چاہئے کہ داخل مسجد اذان مکروہ ہے تو مدعی کا یہ کہنا کہ ”فقہائے احناف میں سے کسی نے بھی اس اذان کیلئے علی باب المسجد یا خارج المسجد الخ ۔ یا تو نا واقفی ہے یا سفید جھوٹ اور صریح فریب۔ گر ہمیں مفتی و ہمیں افتا - کارافتا تمام خواهد شد پھر اس دعوی سے بھی کال نہیں کٹا اس لئے کہ مدعی تخصیص پر لازم ہے کہ ایسے ہی کلمات صریحہ معتمدہ میں اذان ثانی جمعہ کا استناد دکھائے مگر ہر گز نہ دکھا سکے گا اور استناد کہاں سے دکھائے گا وہ تو خود اقرار کر چکا کہ عہد نبوی میں جمعہ کی اذان اول نہیں تھی صرف یہی اذان تھی جس سے اعلام غائبین کا کام لیا جاتا تھا اس لئے یہ مسجد کے دروازے پر ہوتی تھی اور یہی عہد صدیقی و فاروقی میں بھی معمول تھا حضرت سائب بن یزید سے مروی ہے: كان يؤذن بين يدى رسول الله انه لال له اذا جلس على المنبريوم الجمعة على باب المسجد وابى بكر و عمر () یہ کلمات صاف بتا رہے ہیں کہ زمان برکت نشان سرکار علیہ الصلاۃ والسلام اور عہد شیخین رضی اللہ تعالیٰ عنہما میں خطبہ جمعہ کی اذان دروازہ مسجد پر ہوتی تھی اور مدعی نے اپنے پورے فتویٰ میں اس کا پتہ دیا ہے کہ نبی علیہ السلام اور شیخین کریمین کی اس سنت جلیلہ کو کسی نے بدلا ہو حالانکہ سابقہ عبارت کے بعد ہی سید نا عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ایک اذان اضافہ کرنا اور اسے مقام زوراء پر کہلوانا ذکر کیا مگر یہ نہ بتایا کہ سید نا عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اذان خطبہ میں کوئی تبدیلی کی ، جسکا صاف مفاد یہ ہوا کہ انہوں نے بھی حضور سالم اورسید نا ابوبکر وعمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی اس سنت جلیلہ کو نہ بدلامگر اس کے باوجود اذان ثانی کو اقامت کی مثل قرار دینے کی سعی ناکام اس فتویٰ میں کی گئی ہے۔ چنانچہ بعد تمہید لکھا کہ جب اذان ثانی کا مقصد بدل گیا تو یہ اقامت کے مثل ہو گئی ۔ ” جس طرح اقامت اعلام حاضرین کیلئے ہوتی ہے اسی طرح اس کا مقصد بھی اعلام حاضرین اور انصات ناس ہوا اور حاضرین کو خبر کرنے کیلئے اذان کو مسجد کے اندر ہونا چاہئے۔ اب مفتی صاحب سے یہ کوئی پوچھے کہ جی اس نکتہ کوسید نا عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کیوں نہ پہنچے اور انہوں نے اسی اذان کو اندرون مسجد کیوں نہ کہلوایا اور جب سید نا عثمان غنی اور کسی صحابی کو یہ جرأت نہ ہوئی کہ نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وعلی صحبہ وسلم کی سنت کو بدلے تو آپ کو یہ حق کس نے دید یا پھر مفتی مذکور نے اپنے اس دعوی پر کہ اذان ثانی جمعہ اقامت کے مثل ہے لہذا مسجد کے اندر ہونا چاہئے کچھ عبارتیں بھی لکھییں ذرا ان عبارتوں پر بھی کچھ گفتگو ہو جائے تو اس سلسلہ میں کہنا یہ ہے کہ ان تمام عبارات سے اس امر کی صراحت تو نہیں ملتی کہ اذان خطبہ مسجد کے اندر ہونا چاہئے اور جب ان میں یہ تصریح نہیں تو یہ عبارتیں ان عبارتوں کی معارض کیونکر ہوگئیں جن میں ہر اذان کیلئے بلا استثنا صراحت ہے کہ خارج مسجد ہو،مسجد میں اذان نہ دی جائے۔ سب سے پہلے مفتی مذکور نے اس سلسلہ میں فتح الباری کی ایک عبارت تحریر کی ۔ جس کا مفاد یہ ہے کہ پہلی اذ ان اعلان کیلئے ہے اور جو خطیب کے سامنے ہو تو اب وہ لوگوں کو خاموش کرنے کیلئے بے قطع نظر اس سے کہ مفتی کے ذمہ صحیح نقل ہے اس عبارت میں کوئی لفظ ایسا نہیں جس کا مطلب یہ ہو کہ اذان ثانی مسجد کے اندر ہونا چاہئے ۔ دوسری عبارت جو روح التوشیح سے لکھی اس کی بھی تصحیح نقل مفتی مذکور کے ذمہ ہے اور اس کا مفاد بھی سابقہ عبارت سے زیادہ نہیں اور اس میں بھی مدعی کا افادہ نہیں مراقی الفلاح کی عبارت کا مفادصرف اس قدر ہے کہ اذان ثانی کا خطیب کے سامنے ہونا شرعاً مطلوب ہے اور یہی معمول و متوارث رہا ہے جیسا کہ بعد خطبہ اقامت کہنا متوارث ہے تو تشبیہ متوارث ہونے میں ہے نہ کہ ہر لحاظ سے تو یہ بھی مدعی کو فائدہ نہیں دیتی۔ سعایہ" کی بھی ایسی عبارت نقل ہوئی ہے جس میں ضرور اذان خطبہ کو شل اقامت کہا ہے مگر یہ تصریح اس میں بھی نہیں کہ اذان خطبہ مسجد کے اندر ہونا چاہئے اور اس میں یہ جو کہا گیا ہے کہ اذان خطبہ میں مقام بلند ہونا مستحب نہیں محل نظر ہے جو خود اس میں جملہ "صرح به جماعة من الفقهاء ، یعنی اسکی تصریح فقہاء کی ایک جماعت نے کی ہے اس پر دال ہے کہ مسئلہ اتفاقی نہیں ہے بلکہ مختلف فیہ ہے اور طحطاوی علی الدر میں چند موذنوں کے اذان دینے میں حرج نہ بتایا اور درمختار میں چند موذنوں کیلئے لکھا کہ یکے بعد دیگرے خطیب کے سامنے اذان دیں اور در مختار و حاشیه طحطاوی و حاشیہ ابن عابدین میں سعایہ کے مضمون کا پتہ نہیں یہ سب اس تقدیر پر ہے کہ مفتی صاحب سعایہ کی عبارت کی تصحیح نقل کر دیں پھر صاحب سعایہ کا یہ ارشاد بھی سن لیجئے وہ عمدۃ الرعایہ میں فرماتے ہیں: قوله (بین یدیه ای مستقبل الامام في المسجد كان او خارجه والمسنون هو الثاني(1) (1) حاشية عمدة الرعاية على شرح الوقاية ، ج ۱، ص ۲۰۲ ، كتاب الصلوة باب الجمعة مكتبه تهانوى یعنی اذان خطبہ خطیب کے سامنے مسجد میں ہو یا مسجد کے باہر اور مسنون یہ ہے کہ خارج مسجد ہو۔ اس میں مفتی مذکور کے مدعی کہ فلاں کی تصریح ہے اور بین یدیہ کا جو یہ مطلب ان مدعیوں نے سمجھا ہے کہ اذان خطبہ مسجد کے اندر ہی ہو جبھی بین یدیہ صادق آئے گا اس کا بھی واضح بیان اسی عبارت میں موجود ہے اور اس سے پہلے تو وہ حدیث جس میں عہد نبوی وعہد شیخین کریمین میں اذان خطبہ کا خطیب کے سامنے دروازہ مسجد پر ہونا بیان فرمایا اس گمان کا رد کر چکی اور صاف بتا چکی کہ بین یدی اور خارج مسجد میں منافات نہیں بلکہ بین یدیہ خارج مسجد محاذات خطیب پر بھی صادق ہے تو فقہاء کے بین یدی المنبر “ لکھنے سے یہ متعین کر لینا کہ یہ اذان مسجد کے اندر ہونا چاہئے بلا دلیل ہے بلکہ خلاف دلیل ہے اور اس پر تعامل امت کا دعویٰ صریح دروغ بے فروغ ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم بین یدیہ کے معنی کی تحقیق کیلئے اعلیحضرت علیہ الرحمۃ کا رسالہ "اوفی اللمعة فی اذان الجمعة" مندرجہ فتاویٰ رضویہ جلد سوئم دیکھئے۔ فقیر محمد اختر رضا خاں قادری از هری غفرله شب ۲۲ رصفر المظفر ۱۴۰۸ھ صبح الجواب صحیح نہیں ہے اور کتب معتبرہ معتمدہ کے خلاف ہے اور فقہائے حنفیہ کے ارشادات کے خلاف ہے۔ عمدۃ القاری شرح بخاری میں ہے: الاذان اعلام للغائبين والاقامة اعلام للحاضرين اذان غائبین کو خبر دار کرنے کیلئے ہے اور اقامت حاضرین کیلئے اور یہ وہم ہے کہ اذان خطبہ اب اعلام کیلئے نہیں ہے محض غلط و بے دلیل ہے اور اپنے مذہب سے ناواقفی ہے جو حکم اور اذانوں کا ہے وہی اذان خطبہ کا ہے ہدایہ وکافی و تبیین و نا یہ درمختار و بحر الرائق وغیر ہا میں بھی تصریح ہے کہ ثانی اذان جمعہ بھی اعلام ہی کیلئے ہے۔ بحر میں ہے: تکراره مشروع کما في اذان الجمعة لانه لا علام الغائبين فتكريره مفيد لاحتمال یعنی جمعہ کی اذان بھی غائبین کی اطلاع کو ہے لہذا خطبہ کے وقت دوبارہ کہنا مفید ہے۔ کہ شاید پہلی اذان غائبین نے نہ سنی ہو تو اب سن لیں گے۔ تو فتح الباری یا روح التوشیح کی عبارت سے فقہائے حنفیہ پر حجت بنانا غلط و باطل ہے ہمارے فقہائے حنفیہ کی تصریحات کے خلاف ہے جو ہرگز مقبول نہیں ہے انہوں نے جو کچھ لیا ہے وہ اپنے مذہب کی بنا پر، وہ ہمارے لئے دلیل نہیں اور ان کی شرع سے فتویٰ دینا بھی روا نہیں ۔ اور بین یدی المنبر یا عند المنبر پر جو کچھ مولوی مذکور نے لکھا ہے وہ بھی تحقیق کے خلاف ہے اور تصریحات علمائے معتمدین کے مخالف ہے ہم نے اپنے بعض فتاوی میں اس پر مفصل کلام کیا ہے اور ائمہ اعلام اور فقہائے معتمدین کے ارشادات سے ثابت کیا ہے کہ بین یدی المنبر یاعند المنبر سے مسجد کے اندر اذان دینے کی اجازت نہیں ہوتی ہے۔ واللہ الھادی وھو تعالیٰ اعلم کتبہ قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی مرکزی دار الافتاء ۸۲ /سوداگران بریلی شریف ۱۳ ربیع الاول ۱۴۰۸ھ