بوقت اقامت کب کھڑا ہونا چاہیے؟ صوفی جمیل کے دلائل کا جائزہ
کیا بوقت اقامت شروع تکبیر میں کھڑا ہونا چاہئے؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ: صوفی جمیل صاحب ساکن مورھانے اظہر جمیل میں چند کتابوں کے حوالے سے یہ ثابت کیا ہے کہ وقت تکبیر شروع ہی میں کھڑا ہونا چاہئے ، وہ حوالے یہ ہیں : در مختار میں ہے : ” و القیام حین قیل حى على الصلوة - الخ“ دوسرا حوالہ فتح الباری شرح بخاری ج ۲ ص ۱۰۰: ان بلالا يراقب خروج النبی الخ“ تیسرا حوالہ در مختار کی شرح طحطاوی ج ۱ ص ۳۳۱: "والظاهر انه احتراز عن التاخر لا للتقديم الخ“ ان عبارات سے صوفی مذکور نے یہ ثابت کیا ہے کہ شروع تکبیر میں کھڑا ہونا چاہئے جبکہ مسئلہ یہ ہے کہ شروع تکبیر میں کھڑا ہونا مکروہ وسنت کے خلاف ہے۔ چونکہ یہاں اہل سنن میں اس کتاب کے ذریعہ اختلاف شدید کا اندیشہ ہے لہذا اس کا جواب مع رد جلد از جلد دینے کی زحمت گوار فرمائیں۔ المسلطانی : ذاکر مشہور
الجواب: فی الواقع ہمارے ائمہ ثلثہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے نزدیک امام و مقتدی کو ”حی علی الفلاح“ پر کھڑا ہونا مستحب ہے۔ در مختار میں آداب نماز میں فرمایا : هندیہ میں ہے: والقيام لامام ومؤتم حين قيل حی علی الفلاح (1) يقوم الامام والقوم اذا قال المؤذن حى على الفلاح عند علمائنا الثلثة هو الصحيح کذافی المضمرات (۲) اور شروع تکبیر سے کھڑا ہونا باتفاق ائمہ مذہب حنفی مکروہ ہے لہذا مسجد میں اثناء اقامت داخل ہونے والے کا حکم ہے کہ وہ بیٹھ جائے اور حی علی الفلاح پر کھڑا ہو ۔ کہ کھڑے ہوکر ختم اقامت کا انتظار مکروہ ہے۔اسی در مختار میں ہے: دخل المسجد و المؤذن يقيم قعد الی قیام الامام في مصلاه (۳) رد المحتار میں ہے: ويكره له الانتظار قائما ولكن يقعد ثم يقوم اذا بلغ المؤذن حى على الفلاح (۴) اور طحطاوی کی عبارت منقولہ حجت نہیں کہ یہی طحطاوی حاشیہ مراقی الفلاح میں ابتدائے اقامت سے کھڑے رہنے کو مکروہ فرمارہے ہیں۔ چنانچہ فرماتے ہیں: ويفهم منه كراهة القيام ابتداء الاقامة والناس عنه غافلون(ه) صوفی مذکور نے در مختار کی عبارت تو نقل کی مگر یہ نہ سمجھا کہ وہ اس کیلئے مفید مدعا نہیں یہی حال اس حدیث منقول کا ہے کہ اس میں ارشاد حضور علیہ الصلاۃ والسلام صاف موجود که: (1) رد المحتار - ج ۲، ص۱۷۷، کتاب الصلوة ، باب صفة الصلوة، دار الكتب العلمية بيروت (۲) الفتاوى الهندية، ج ۱، ص ۱۱۴ ، كتاب الصلوة، الباب الثاني في الاذان والاقامة وكيفيتهما، دار الفكر بيروت (۳) الدر المختار - ج ۲ ص ، کتاب الصلوۃ، باب الاذان، دار الكتب العلمية بيروت (۴) رد المحتار - ج ۲ ص ، كتاب الصلوۃ، باب الاذان، دار الكتب العلمية بيروت (۵) الطحطاوي على مراقی الفلاح - ص ۲۷۸ ، فصل من أدابها الخ، دار الكتب العلمية بيروت لاتقومواحتی ترونی قد خرجت (۱) یعنی کھڑے مت ہو جب تک کہ مجھے حجرہ شریفہ سے نکلتا نہ دیکھ لو اور یہ فرمان خود شروع سے مانع قیام ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله شب ۲۰ جمادی الاولی ۱۴۰۲ھ